بھارت:جادو ٹونے کے الزام پر ہجوم نے خاتون اور ایک سالہ بچے کو زندہ نذرِ آتش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں توہم پرستی کی ایک ہولناک مثال سامنے آئی ہے جہاں مبینہ طور پر جادو ٹونے کے الزام میں ایک خاتون کو اس کے ایک سالہ معصوم بچے سمیت زندہ نذرِ آتش کر دیا گیا۔ افسوسناک واقعہ مغربی سنگھ بھوم کے ایک دیہی علاقے میں پیش آیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 32 سالہ خاتون کو مقامی افراد نے ڈائن قرار دیتے ہوئے اس کے گھر کا گھیراؤ کیا۔ رات گئے مشتعل ہجوم متاثرہ خاندان کے مکان کے باہر جمع ہوگیا اور شور شرابا کرتے ہوئے دھمکیاں دینے لگا۔ اس دوران حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے بات جان لیوا حملے میں بدل گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے شوہر نے جب باہر نکل کر لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی تو ہجوم نے اس پر بھی حملہ کر دیا۔ بعد ازاں مشتعل افراد نے خاتون اور اس کے کمسن بچے پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملے کے دوران شوہر شدید زخمی ہوا، تاہم وہ کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہوگیا اور اگلے روز پولیس اسٹیشن پہنچ کر واقعے کی اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی نفری موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ پر جادو ٹونے کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا تھا، جسے بنیاد بنا کر یہ سفاکانہ اقدام کیا گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے شوہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ دیگر ممکنہ کرداروں کی تلاش اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر بھارت کے بعض دیہی علاقوں میں رائج توہم پرستانہ عقائد اور سماجی پسماندگی کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں آج بھی خواتین کو بے جا الزامات کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش سانحات کا سدباب ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کر دیا
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔