ایف بی آر نے کاروبار کو ٹیکس نظام سے منسلک کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ایف بی آر نے کاروبار کو ٹیکس نظام سے منسلک کرنے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے تمام رجسٹرڈ کاروباروں کو ایک ہفتے کے اندر اپنے نظام کو ایف بی آر کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں مقررہ مدت کے اندر تعمیل لازمی قرار دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پوائنٹ آف سیلز مشین استعمال کرنے والے تمام کاروباری یونٹس کو ایف بی آر کے مرکزی نظام سے جوڑا جائے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق ہوٹلوں، گیسٹ ہاوسز، میرج ہالز اور مختلف کلبز پر بھی ہوگا جبکہ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کورئیر سروسز اور کارگو آپریٹرز کو بھی اس عمل کا پابند بنایا گیا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ بیوٹی پارلرز، سلمنگ سینٹرز اور بیوٹی کلینکس کو لازمی طور پر ایف بی آر کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی۔ اسی طرح ہئیر ٹرانسپلانٹ مراکز، نجی کلینکس، ڈینٹل کلینکس اور پلاسٹک سرجنز کے کاروبار بھی اس نئے ٹیکس نظام کے تحت لائے جائیں گے تاکہ ان کی آمدن کا ریکارڈ مرکزی ڈیٹا سے منسلک رہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیبارٹریز، ویٹرنری ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک اور ایکسرے سینٹرز، نجی اسپتال، پرائیویٹ کنسلٹنٹس اور دیگر ہیلتھ کیئر سروسز فراہم کرنے والے ادارے بھی اس پابندی کے دائرے میں آئیں گے۔ اسی طرح ہیلتھ کلبز، سوئمنگ پولز، فٹنس سینٹرز اور ملٹی پرپز کلبز کو بھی ٹیکس نظام سے جوڑنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ایف بی آر کے مطابق بڑے اور معروف کلبز بشمول کراچی جمخانہ، رائل پام، چناب کلب، اسلام آباد کلب اور لاہور جمخانہ کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔ مزید برآں چارٹرڈ اکاونٹنٹس فرمز اور کاسٹ و مینجمنٹ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی ادارے جہاں ماہانہ فیس ایک ہزار روپے ہے، انہیں بھی ایف بی آر کے نظام سے منسلک ہونا ہوگا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 33 کے تحت اس نظام سے وابستگی بنیادی شرط قرار دی گئی ہے اور متعلقہ کاروباروں کو پوائنٹ آف سیلز مشین نصب کرنا لازمی ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر برطانوی شہزادے کو گرفتار کرلیا گیا، تحقیقات شروع جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر برطانوی شہزادے کو گرفتار کرلیا گیا، تحقیقات شروع امید ہے غزہ بورڈ آف پیس پائیدار امن کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گا،نائب وزیراعظم خطے میں جنگ کے خدشات، پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت چیئرمین سینیٹ کی مشیر مصباح کھر کی ترک سفیر سے ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر زور ملائیشیا پاکستان کے ساتھ حلال فوڈ، فارما اور زرعی تجارت بڑھانے کا خواہاں ہے: ہائی کمشنر پاکستان غزہ میں امن کےلئے کردار ادا کریگا، حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہونگے، دفتر خارجہCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹیکس نظام ایف بی آر سے منسلک
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔