جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو بغاوت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر یون سک یول نے دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر یون سک یول نے آئینی نظام کو مفلوج کرنے کی دانستہ کوشش کتے ہوئے فوج کو پارلیمنٹ بھیجا تاکہ قومی اسمبلی کو کام کرنے سے روکا جا سکے۔

عدالت نے مزید کہا کہ صدر نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کی جس سے ملک کو شدید سیاسی اور سماجی نقصان پہنچا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صدر یون سک یول کی فوجی بغاوت کی قیادت کی اور انھوں نے سماعت کے دوران کسی بھی وقت اپنے کیے پر ندامت ظاہر نہیں کی گئی۔

سابق صدر یُون سک یول نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ بطور صدر انہیں مارشل لا نافذ کرنے کا اختیار حاصل تھا اور یہ فیصلہ اپوزیشن کی رکاوٹوں کو روکنے کے لیے کیا گیا۔

تاہم عدالت نے ان کی یہ دلیل مسترد کر دی اور عمر قید کی سزا سنائی حالانکہ استغاثہ نے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔

جنوبی کوریا کے سابق صدر یون اس وقت سیئول ڈیٹینشن سینٹر میں قید ہیں۔ ان کے وکلا نے فیصلے کو پہلے سے لکھا ہوا اسکرپٹ قرار دیتے ہوئے اپیل کا عندیہ دیا ہے۔

خیال رہے کہ 3 دسمبر 2024 کو اُس وقت کے صدر یُون سک یول نے جنوبی کوریا میں اچانک مارشل لا نافذ کردیا تھا۔

البتہ چند گھنٹوں بعد ہی شدید عوامی احتجاج اور پارلیمنٹ کے ووٹ کے بعد مارشل لا ختم کردیا گیا تھا اور صدر کے مواخذے کا عمل شروع کیا گیا۔

اس طرح 2025 میں قومی اسمبلی نے صدر یُون سک یول کے مواخذے کے نتیجے میں انھیں صدر کر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

بعد ازاں سابق صدر کو حراست میں لیا گیا اور مختلف مقدمات جن میں بغاوت بھی شامل ہے، شروع کیے گئے۔

رواں برس کے آغاز میں ہی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے کے مقدمے میں 5 سال قید کی سزا پہلے ہی سنائی جا چکی ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صدر یون سک یول جنوبی کوریا سک یول نے مارشل لا

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان