برطانوی شہزادہ اینڈریو کو جیفری ایپسٹین کیس میں حراست میں لے لیا گیا، تفتیش کا باضابطہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانوی شاہی خاندان سے وابستہ پرنس اینڈریو کو سرکاری اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے سنگین شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد برطانیہ بھر میں سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے، سابق شہزادے کو نورفوک میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا جبکہ اس معاملے کی باقاعدہ اور جامع تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتاری کے فوراً بعد نورفوک اور برکشائر میں واقع متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے، جہاں شواہد اکٹھے کرنے اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔
تھامس ویلی پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل اولیور رائٹ کے مطابق ابتدائی جانچ کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر سرکاری اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کی باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی، تحقیقات میں مکمل شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے گا اور عوامی دلچسپی کے پیش نظر مناسب وقت پر مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو غیر نشان زد گاڑیوں میں شاہی خاندان کی سینڈرنگھم اسٹیٹ میں واقع ووڈ فارم رہائش گاہ پہنچتے اور کارروائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے، یہ کارروائی علی الصبح تقریباً آٹھ بجے کی گئی، جس کے باعث علاقے میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات دیکھنے میں آئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنس اینڈریو پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کے دوران بعض حساس اور خفیہ نوعیت کی معلومات امریکی ارب پتی اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ شیئر کیں، جو قومی سلامتی اور ریاستی مفادات کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی تھیں۔ تاہم حکام نے اس مرحلے پر مزید تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی مؤقف سامنے لایا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق شاہی خاندان سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی اس نوعیت کی گرفتاری برطانوی تاریخ میں غیر معمولی واقعہ تصور کی جا رہی ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جب کہ عوام کی نظریں اب اس حساس مقدمے کی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک