ان رہنماء اصولوں سے مراد وہ فریم ورک ہے جو مذاکرات کے اگلے دور کی بنیاد اور ایجنڈا بن سکتے ہیں۔ نیز متن کی تیاری کے عمل کو بھی آسان بنا سکتے ہیں۔ جن میں دو اصول شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ حالیہ منگل کے روز ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں منعقد ہوا۔ یہ مذاکراتی عمل عمانی ثالثی سے طے پایا۔ اس مذاکراتی اجلاس کے بعد، ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے امریکی ٹیم کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لئے جنیوا میں واقع عمانی سفارت خانے شرکت کی۔ اس اجلاس کے سلسلے میں گزشتہ روز سے ہی مشاورت شروع ہو گئی تھی۔ اسی حوالے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ "رافائل گروسی" جنیوا آئے، جن سے تکنیکی پہلوؤں پر اچھی گفتگو ہوئی۔ ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے بعد وہ امریکی وفد سے بھی ملے۔ سید عباس عراقچی نے مزید بتایا کہ مذاکرات کے اس دور میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ گفتگو ہوئی، مختلف آراء پیش کی گئیں اور ان خیالات پر سنجیدگی سے بحث ہوئی۔ آخر کار ہم اُن رہنماء اصولوں پر متفق ہونے میں کامیاب ہو گئے کہ جن پر آئندہ کے مذاکرات کا عمل آگے بڑھے گا۔

اب سوال یہ ہے كہ سید عباس عراقچی کی جانب سے میڈیا ٹاک میں اشارہ کئے گئے رہنماء اصول کیا ہیں؟۔ تو ان رہنماء اصولوں سے مراد وہ فریم ورک ہے جو مذاکرات کے اگلے دور کی بنیاد اور ایجنڈا بن سکتے ہیں۔ نیز متن کی تیاری کے عمل کو بھی آسان بنا سکتے ہیں۔ جن میں دو اصول شامل ہیں۔

الف) پہلے حصے میں جوہری امور شامل ہیں۔ جن میں افزودگی کی مقدار اور افزدوہ شدہ یورینیم کی تحویل کے بارے میں گفتگو ہے۔ اس کے علاوہ یقین دلایا جائے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف عسکری مہم جوئی سے اجتناب کیا جائے گا۔
ب) دوسرے حصے میں امریکہ کی جانب سے اقتصادی اور مالیاتی پابندیاں ہٹانے کا موضوع شامل ہے۔
دونوں ممالک آنے والے دِنوں میں ان میں سے ہر ایک موضوع کے بارے میں مجوزہ تفصیلی متن تیار کر کے ایک دوسرے تک پہنچائیں گے، تاکہ مذاکرات کے اگلے دور کے لئے ایک مشترکہ متن تک پہنچا جا سکے۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات شب، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل "رافائل گروسی" نے سید عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ جس میں ایران-امریکہ بالواسطہ مذاکرات کے عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی مذاکرات کے سکتے ہیں

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی