امریکا کا ایران کو آخری پیغام؟ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا اشارہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد وائٹ ہاؤس نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ایران کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں حالیہ دنوں میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ اس سے قبل مذاکرات اُس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب اسرائیل نے گزشتہ سال ایران پر حملے کیے تھے، جس کے بعد 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تھی۔
ادھر امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے آخر تک ایران پر ممکنہ حملے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو مختلف فوجی آپشنز پر بریفنگ بھی دی جا چکی ہے۔
مزید پڑھیںایران ٹرمپ کی بعض ’ریڈ لائنز‘ پر بات چیت کیلئے تیار نہیں، نائب امریکی صدر کا انکشاف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں چند بنیادی اصولوں پر اتفاق ہوا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن وہ دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
ادھر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے بھی ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ ہوا ہے، جس میں جوہری پروگرام سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جبکہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال انتہائی نازک قرار دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ ایران
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔