رمضان المبارک کے آغاز پر امریکی صدر ٹرمپ کا مسلمانوں کے نام پیغام
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے پر امریکی مسلمانوں کو مبارک باد دی ہے اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ ٹروتھ‘ پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا:
’آج میں رمضان منانے والے تمام لوگوں کو مبارک باد اور نیک تمنائیں بھیجتا ہوں۔‘
انہوں نے مزید لکھا: ’ہر رمضان روحانی تجدید، فکر و تدبر اور خدا کی بے شمار نعمتوں پر شکرگزاری کا ایک مقدس موقع فراہم کرتا ہے۔ بہت سے امریکیوں کے لیے یہ مقدس وقت عبادت اور روزے پر زور دیتا ہے، خاندانی اور سماجی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور ہمدردی، خیرات، رحمدلی اور عاجزی کی ہماری مشترکہ اقدار کی توثیق کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ عبادت کی آزادی کا خداداد حق ہماری قوم کی پہچان اور ہماری خوشحالی اور طاقت کا ستون ہے۔
’یہی وجہ ہے کہ ہر روز میری انتظامیہ اس امر کو یقینی بنانے میں مصروفِ عمل ہے کہ تمام شہری اپنے عقیدے پر عمل، اپنے ضمیر کی پیروی اور آزادی سے عبادت کر سکیں، کیونکہ مذہبی آزادی کا مطلب ہے کہ آپ کو فخر کے ساتھ اور کسی بھی ظلم و ستم کے خوف کے بغیر مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حق حاصل ہو۔‘
ٹرمپ نے لکھا کہ فضل اور خیر سگالی کے اس موسم میں، میں گھر میں خوشی اور تشفی، دنیا بھر میں اتحاد و امن اور آنے والے سالوں میں برکتوں کے نزول کی دعا کرتا ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رمضان المبارک کے آغاز پر پیغام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رمضان المبارک کے ا غاز پر پیغام امریکی صدر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔