مہنگی اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ڈویژنل کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے رمضان المبارک کے دوران ڈویژن کے تمام اضلاع میں پرائس کنٹرول، سیکیورٹی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے جامع پلان کے حوالے سے آگاہ کیا -کمشنر حیدرآباد نے بتایا کہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ پرائس کمیٹیوں نے اشیائے ضروریہ کی سرکاری مقرر کردہ نرخوں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہیں۔ دکانداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں کریںجبکہ بڑے مارٹس کو پینا فلیکس بینرز پر نرخ نامے تحریر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈویژن بھر میں 33 شکایتی مراکز، 68 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ٹیمیں اور 20 بچت بازار قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد شہر میں 12 پرائس مانیٹرنگ ٹیمیں مارکیٹوں کی نگرانی کریں گی۔وہ آج شہبازہال شہباز بلڈنگ حیدرآباد میں ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی حیدرآباد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے جبکہ میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے دکانوں اور مارکیٹوں کی نشاندہی کریں جو سرکاری نرخ نامے آویزاں نہیں کرتے ہیں۔ انتظامیہ رمضان المبارک کے دوران متحرک رہے گی اور پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا رمضان المبارک کے دوران منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جس میں جرمانوں کے ساتھ ایف آئی آر کا اندراج بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ احترامِ رمضان آرڈیننس کے تحت صرف مخصوص مقامات جیسے ریلوے اسٹیشنز، بس اڈوں اور اسپتالوں کی کینٹینز کو استثنیٰ حاصل ہوگی جبکہ ہوٹلز یا کیفیز کو ممنوعہ اوقات میں کھلے رکھنے کی اجازت دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ رمضان کے دوران صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک ویجیلنس کمیٹی بنائی جائے گی.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک کے دوران انہوں نے کہا کہ کو یقینی جائے گی ایس ایس کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔