عالمی رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد: دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان نے رمضان کا چاند نظر آنے پر مسلمانوں کو ماہ مقدس کی خصوصی مبارکباد دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ رمضان عبادت، روزہ، دعا اور خیرات میں مشغول رہنے کا مہینہ ہے اور یہ خدا کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا مقدس موقع فراہم کرتا ہے، رمضان روحانی تجدید کے ساتھ ساتھ خاندانی اور سماجی رشتوں کو بھی مضبوط کرتا ہے اور ہمدردی، خیرات، رحمت اور عاجزی جیسی مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ امید، مدد اور بہتر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کا وقت ہے۔ برطانوی بادشاہ شاہ چارلس نے رمضان المبارک کے آغاز پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ مقدس مہینہ صبر، ہمدردی، سخاوت اور روحانی غور و فکر کی یاد دہانی کراتا ہے اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان احترام اور اتحاد کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے رمضان کو برداشت، یکجہتی اور انسان دوستی کے فروغ کا مہینہ قرار دیا اور فرانس میں مسلم کمیونٹی کی سماجی خدمات اور قومی زندگی میں کردار کو سراہا، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کورنی نے کہا کہ رمضان مسلمانوں کے لیے روحانی مضبوطی، خیرات اور کمیونٹی سروس کا مہینہ ہے اور کینیڈا مذہبی آزادی اور تنوع کو اپنی طاقت سمجھتا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈک مرز نے امن، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جرمنی میں مقیم مسلمانوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اٹلی کے صدر سر گیئو میٹریلا نے رمضان المبارک کو انسانی اقدار، قربانی اور باہمی یکجہتی کا مہینہ قرار دیا اور مسلمانوں کے لیے خیرسگالی کا پیغام دیا۔
یہ عالمی رہنماؤں کے پیغامات مسلمانوں کے لیے احترام، یکجہتی اور خیر سگالی کے جذبے کا مظہر ہیں اور رمضان المبارک کی عالمی سطح پر پذیرائی کو اجاگر کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک کا مہینہ کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔