امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد ممالک کے سربراہان نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کا چاند نظر آنے پر ماہ مقدس کی خصوصی مبارکباد دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ رمضان میں مسلمان عبادت، روزہ، دعا اور خیرات میں مشغول رہتے ہیں کیوں کہ یہ خدا کی نعمتوں پر شکر بجا لانے کا مقدس مہینہ ہے۔

انھوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ رمضان روحانی تجدید کے ساتھ ساتھ خاندانی اور سماجی رشتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ ہمدردی، خیرات، رحمت اور عاجزی جیسے مشترکہ انسانی اقدار کا مظہر ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ امید، مدد اور بہتر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کا وقت ہے۔

برطانوی بادشاہ شاہ چارلس نے رمضان المبارک کے آغاز پر جاری پیغام میں کہا کہ یہ مقدس مہینہ صبر، ہمدردی، سخاوت اور روحانی غور و فکر کی یاد دہانی کراتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خیر و برکت کی دعا کی اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان احترام اور اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے پیغام میں کہا کہ رمضان المبارک برداشت، یکجہتی اور انسان دوستی کی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فرانس میں مسلم کمیونٹی کی سماجی خدمات اور قومی زندگی میں کردار کو سراہا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کورنی نے کہا کہ رمضان مسلمانوں کے لیے روحانی مضبوطی، خیرات اور کمیونٹی سروس کا مہینہ ہے۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا مذہبی آزادی اور تنوع کو اپنی طاقت سمجھتا ہے۔

جرمن چانسلر فریڈک مرز نے رمضان کے موقع پر اپنے پیغام میں امن، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جرمنی میں مقیم مسلمانوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اٹلی کے صدر سر گیئو میٹریلا نے رمضان المبارک کو انسانی اقدار، قربانی اور باہمی یکجہتی کا مہینہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے لیے خیرسگالی کا پیغام دیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسلمانوں کے لیے پیغام میں کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران