رمضان خوداحتسابی اوراصلاح کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے،رخشندہ منیب
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)رمضان المبارک کی آمد پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی صوبہ سندھ کی ناظمہ رخشندہ منیب نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ یہ بابرکت مہینہ ہمیں صبر، تقویٰ، ایثار، ہمدردی اور خود احتسابی کا عملی درس دیتا ہے اور ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کی اصلاح کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کا مہینہ ہے۔ جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام ہونے والا دورہ قرآن رمضان المبارک کی سب سے بڑی دعوتی سرگرمی ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام الناس بالخصوص خواتین کو قرآن مجید سے جوڑنا، اس کے پیغام کو سمجھنا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ دورہ قرآن کے ذریعے گھروں، محلوں اور معاشرے میں فکری و اخلاقی بیداری پیدا ہوتی ہے جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔رخشندہ منیب نے کہا کہ رمضان المبارک ہمیں دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں، خصوصاً فلسطین کے نہتے مسلمانوں کو یاد رکھنے کا درس بھی دیتا ہے جو بدترین ظلم، جارحیت اور انسانی حقوق کی پامالی کا شکار ہیں۔ فلسطین میں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ اس مقدس مہینے میں ہمیں اپنے روزوں، عبادات اور دعاؤں میں فلسطینی مسلمانوں کو خصوصی طور پر یاد رکھنا چاہیے اور ہر ممکن سطح پر ان کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خواتین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھروں کو ایمان و تقویٰ کا مرکز بنائیں، نئی نسل کی اسلامی تربیت کریں اور ظلم و ناانصافی کے خلاف حق کا شعور بیدار کریں۔ رمضان المبارک ہمیں باطل نظام کے مقابلے میں حق پر ثابت قدم رہنے اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔آخر میں ناظمہ صوبہ نے صوبہ سندھ کی تمام خواتین سے اپیل کی کہ وہ رمضان المبارک کو اجتماعی اصلاح، قرآن سے تعلق، دعاؤں اور عملی جدوجہد کا مہینہ بنائیں اور اس عزم کے ساتھ آگے بڑھیں کہ ہم اپنے قول و فعل سے ایک بہتر، باکردار اور اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ