کشمیریوں کی مبینہ ہراسانی پر کانگریس ایم ایل ایز کا اسمبلی کے باہر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
دونوں اراکین اسمبلی نے نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر سے باہر کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو فوری طور پر روکا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کانگریس کے اراکین اسمبلی عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے جموں و کشمیر سے باہر کی ریاستوں، بھارت کے مختلف خطوں میں کشمیری شہریوں کے ساتھ ہراسانی کے خلاف اسمبلی کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اس طرح کے واقعات کو فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ایم ایل اے عرفان لون نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر بینر اٹھاتے ہوئے احتجاج درج کیا، جس پر "کشمیریوں کے ساتھ ہراسانی بند کرو" درج تھا۔ جبکہ افتخار احمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ راجوری سے تعلق رکھنے والے چند دیگر اراکین اسمبلی نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔
اراکین اسمبلی نے راجستھان کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری نرسنگ طلبہ کے ساتھ ہراسانی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو ایوان میں اٹھائیں گے۔ ان کا الزام تھا کہ کورس کی منظوری سے متعلق احتجاج کے دوران کشمیری طلبہ پر حملہ کیا گیا جس میں چار طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ ایک طالبہ کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی۔ دونوں اراکین اسمبلی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر سے باہر کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو فوری طور پر روکا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اراکین اسمبلی نے کے ساتھ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔