دونوں اراکین اسمبلی نے نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر سے باہر کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو فوری طور پر روکا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کانگریس کے اراکین اسمبلی عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے جموں و کشمیر سے باہر کی ریاستوں، بھارت کے مختلف خطوں میں کشمیری شہریوں کے ساتھ ہراسانی کے خلاف اسمبلی کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اس طرح کے واقعات کو فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ایم ایل اے عرفان لون نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر بینر اٹھاتے ہوئے احتجاج درج کیا، جس پر "کشمیریوں کے ساتھ ہراسانی بند کرو" درج تھا۔ جبکہ افتخار احمد بھی ان کے ہمراہ تھے۔ راجوری سے تعلق رکھنے والے چند دیگر اراکین اسمبلی نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔

اراکین اسمبلی نے راجستھان کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری نرسنگ طلبہ کے ساتھ ہراسانی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو ایوان میں اٹھائیں گے۔ ان کا الزام تھا کہ کورس کی منظوری سے متعلق احتجاج کے دوران کشمیری طلبہ پر حملہ کیا گیا جس میں چار طلبہ زخمی ہوئے، جبکہ ایک طالبہ کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی۔ دونوں اراکین اسمبلی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر سے باہر کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو فوری طور پر روکا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اراکین اسمبلی نے کے ساتھ

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان