سانحہ گل پلازہ: تحقیقاتی کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے کو سوالنامہ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) کو سوالنامہ جاری کردیا۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں کمیشن نے ڈی جی ایس بی سی اے کو 47 سوالات پر مشتمل سوالنامہ جاری کرتے ہوئے جوابات مانگ لیے جب کہ کمیشن نے ایس بی سی اے سے گل پلازہ کا تمام ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ ایس بی سی اے کہتا ہے جب تک شکایت نہ ہو کارروائی نہیں کرسکتے، آج ایک اور واقعہ ہوا ہے جس میں15 لوگ جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 40سے 50 گز پر وہ عمارت بنی ہوئی تھی، 40 سے 50 گز پر ہائی رائز عمارت کی اجازت ہوسکتی ہے، اس عمارت کی بھی کسی نے شکایت نہیں کی ہوگی۔
کمیشن نے ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو سے سوال کیا کہ ہم نے پوچھا آپریشن کمانڈ کس کے پاس تھی، بتایا گیا کوئی نہیں تھا، اس پر جاوید کھوسو نے کہا کہ جب آگ لگی میں قریب ہی تھا، سب سے پہلے پہنچا، پروٹوکول کے تحت ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا اور ایس ایس پی سٹی بھی فوری پہنچے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔