پی ایم ڈی سی کا فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ کی افسوسناک وفات پر رنج و غم کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کی 22 سالہ فائنل ایئر کی میڈیکل طالبہ کی افسوسناک وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کی ہے اور اس مشکل گھڑی میں صبر و حوصلے کی دعا کی ہے۔
کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی سنگینی اور اس کے طلبہ برادری پر ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر کالج انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ واقعے سے متعلق حقائق پر مبنی مکمل تفصیلات فراہم کرے، تاکہ کونسل صورتِ حال سے باخبر رہ سکے اور ضرورت پڑنے پر مناسب معاونت یا رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
بیان کے مطابق فاطمہ جناح میڈیکل کالج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر واقعے کی تاریخ، وقت اور حالات سے متعلق ادارہ جاتی ریکارڈ، کسی بھی انکوائری یا حقائق جانچنے والی کمیٹی کی تشکیل، اس کی ساخت اور دائرۂ کار، ابتدائی نتائج یا رپورٹ مکمل ہونے کی متوقع مدت سے آگاہ کرے۔ اس کے علاوہ طلبہ کے لیے ذہنی صحت کی معاونت اور کونسلنگ سروسز کو مضبوط بنانے کے لیے پہلے سے کیے گئے یا مجوزہ اقدامات اور واقعے کے بعد ہاسٹل میں نافذ کیے گئے حفاظتی انتظامات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
پی ایم ڈی سی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ ملک کے مستقبل کے صحت کے نظام کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں اور اس نوعیت کے واقعات نہایت تشویشناک ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے سانحات اس بات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں طلبہ کے لیے معاونت پر مبنی نظام، بالخصوص ذہنی صحت کی سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
کونسل نے واضح کیا کہ اس کا مقصد طلبہ کی جسمانی اور ذہنی صحت کا تحفظ یقینی بنانا اور ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے جو محفوظ، معاون اور طلبہ کی ضروریات کے لیے بروقت اور مؤثر طور پر جواب دہ ہو۔
پی ایم ڈی سی نے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مستند کونسلرز اور ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کریں، خفیہ کونسلنگ سروسز پر مشتمل مؤثر طلبہ معاونتی نظام قائم کریں اور طلبہ کی فلاح و بہبود کی مسلسل نگرانی کریں، بالخصوص ذہنی دباؤ بے چینی، ڈپریشن اور ذہنی تھکن کی علامات پر خصوصی توجہ دی جائے۔
کونسل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بروقت کونسلنگ اور پیشگی ذہنی صحت کی معاونت ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہے گی تاکہ طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی ہے کہ وہ طلبہ کی کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔