فیصل واوڈا کا رانا ثنا کو جواب، سیاسی تیر ہوا میں نہ چلائیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سینیٹ میں سیاسی بیان بازی نے نیا رخ اختیار کر لیا جب سینیٹر فیصل واوڈا نے وفاقی وزیر رانا ثنااللہ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں ہوا میں سیاسی تیر نہ چلانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی چالیں اب پرانی ہو چکی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں فیصل واوڈا نے کہا کہ رانا ثنا نے دعویٰ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دو مرتبہ ڈیل کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے قبول نہیں کی۔ واوڈا نے سوال اٹھایا کہ یہ پیشکش کب، کہاں اور کیسے کی گئی اور کیا یہ وہی ڈیل ہے جس کا علم صرف حکومتی حلقوں کو ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر مبینہ طور پر ایسی ڈیل واقعی موجود تھی اور بانی پی ٹی آئی اسے قبول کر لیتے تو اس کے نتائج مختلف ہوتے اور پھر سیاستدانوں کے لیے حالات مشکل ہو سکتے تھے، سیاسی میدان میں مقابلہ دلیل اور حقائق سے ہونا چاہیے، مفروضوں اور بیانات سے نہیں۔
سینیٹر واوڈا نے مزید کہا کہ رانا صاحب اُڑتے تیر کی کہاوت تو آپ نے سنی ہو گی، اس لیے محتاط رہیں۔ سیاسی باریک وارداتیں اب پرانی ہو گئی ہیں، کچھ نیا سوچیں، انسان کی عادت بدلی جا سکتی ہے مگر فطرت نہیں اور ساتھ ہی رمضان المبارک کی مبارکباد بھی دی۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے اس بیان پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز