رانا صاحب ہوا میں سیاسی تیر نہ چلائیں، سیاسی باریک وارداتیں اب پرانی ہوگئیں، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سینئر سیاسی رہنما سینیٹر فیصل واوڈا۔فوٹو: فائل
سینئر سیاسی رہنما سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ رانا صاحب ہوا میں سیاسی تیر نہ چلائیں، رانا صاحب سیاسی باریک وارداتیں اب پرانی ہوگئیں، کچھ نیا سوچیں۔
اپنے بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ میرےدوست رانا ثنا اللہ نے کہا بانی پی ٹی آئی کو 2 دفعہ ڈیل آفر کی۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی ڈیل کی آفر نہیں مانے۔ پہلے تو بتائیں کب کہاں اور کیسے؟ یہ وہ ڈیل ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ یہ وہ ڈیل ہے جس کا صرف آپ لوگوں کے تصوارات میں ہے، آپ کو ہی پتہ ہے؟ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ اُس نے بقول آپ کے ڈیل نہیں مانی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی اُمور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی جو کررہی ہے وہ سیاست ہے اس کا بانی پی ٹی آئی کے علاج سے کوئی تعلق نہیں۔
انھوں نے کہا اگر بانی پی ٹی آئی یہ مبینہ ڈیل قبول کرلیتے تو اسے سیاستدانوں کے پیچھے آنا ہی آنا ہے، اس نے آپ لوگوں کو چھوڑنا بھی نہیں ہے، پھر سیاستدانوں نے کہاں جانا یہ مجھے نہیں پتہ، بانی کسی اور کے پیچھے نہیں جائے گا نہ جاسکتا ہے، نہ کسی اور میں ہمت ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا رانا صاحب ہوا میں سیاسی تیر نہ چلائیں، رانا صاحب سیاسی باریک وارداتیں اب پرانی ہوگئیں، کچھ نیاسوچیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ آپ لوگوں سے کہا تھا کہ انسان کی عادت بدلی جا سکتی ہے، فطرت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔