ہم بھی طالبعلمی دور میں سیاست کرتے تھے،آپ کو راستہ دکھا رہے ہیں، اپنا ٹرمپ کارڈ سنبھال کر رکھیں،جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں سینیٹر فیصل جاوید کیخلاف توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کے مقدمہ میں جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ سیاسی مقدمات میں حالات بدلتے رہتے ہیں۔ہم بھی طالبعلمی دور میں سیاست کرتے تھے،آپ کو راستہ دکھا رہے ہیں، اپنا ٹرمپ کارڈ سنبھال کر رکھیں،
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹر فیصل جاوید کیخلاف توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ کے مقدمہ کی سماعت ہوئی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو اختیار سماعت پر جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔
مرحبا ! آج آگیا رمضان۔۔۔
جسٹس ہاشم کاکڑنے کہاکہ سیاسی مقدمات میں حالات بدلتے رہتے ہیں۔ہم بھی طالبعلمی دور میں سیاست کرتے تھے،آپ کو راستہ دکھا رہے ہیں، اپنا ٹرمپ کارڈ سنبھال کر رکھیں،جیل سیاسی لوگوں کیلئے زبردست ہے،جسے لیڈر بنانا ہے اسے جیل بھیج دو،میرے دائیں بائیں جو ہیں انہوں نے بھی جیلیں کاٹیں ہیں۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ پتھراؤ کرنے سے دہشتگردی کا مقدمہ درج ہوگا؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔