اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم ارشد عرف بلو کی عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی، عدالت نے ایف آئی آر اور پولیس ریکارڈ میں نو مسلم شیخ لکھنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے تمام صوبوں کے آئی جیز اور اسلام آباد پولیس کو ایف آئی آر میں ذات پات اور برادری کے ذکر سے روک دیا۔

فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔ بینچ میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کسی شخص کے قبول اسلام کی بنیاد پر حیثیت یا وقار میں کوئی فرق نہیں، کسی بھی شخص کو تبدیلِ مذہب کی بنیاد پر نیا یا الگ ظاہر کرنا غیر قانونی ہے۔ انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بھنگی، چوڑا اور مسلی جیسے الفاظ ذات کی پہچان نہیں بلکہ تضحیک کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دیکھ کر دکھ ہوتا کہ معاشرہ انسان کی عزت اس کے وقار کے بجائے اس کے پیشے کی نوعیت سے طے کرتا ہے، پولیس ریکارڈ میں ذات پات کے سابقے یا لاحقے لگانا آئینِ پاکستان کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے فیصلے میں لکھا کہ آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 26 مذہب، نسل، ذات یا جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو روکتا ہے، شہروں کو رہنے کے قابل بنانے والوں کو گندا اور کم تر سمجھنا ایک اخلاقی ناکامی ہے۔ قانون اور معاشرے کی نظر میں ہر شخص وقار، عزت اور برابری کا حقدار ہے چاہے اس کا پیشہ کچھ بھی ہو۔

مزید پڑھیں

چھوٹوں گینگ کیس؛ دوران سماعت رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پر عدالت کے دلچسپ ریمارکس

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے آئی جیز اور اسلام آباد پولیس کو ایف آئی آر میں ذات پات اور برادری کے ذکر سے روکتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کی یادداشت، برآمدگی رپورٹ اور چالان میں بھی کسی کی ذات یا قبائلی شناخت نہیں لکھی جائے گی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے لکھا کہ پولیس ریکارڈ میں کسی کے تبدیلیِ مذہب کی حیثیت یا تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال ممنوع ہوگا۔ ذات کا ذکر صرف اس صورت میں ہو سکے گا جہاں تفتیشی افسر کے پاس اس کی تحریری اور ٹھوس وجوہات ہوں۔

پولیس نے ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ جہانگیر کے نام کے ساتھ ’’نو مسلم شیخ‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ ملزم ارشد بلو نے اکتوبر 2004 میں مقتول محمد طفیل کو قتل کیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ پریم کورٹ نے جائے وقوعہ پر ہاتھا پائی اور مقتول کے جسم کے غیر اہم حصے پر ایک فائر کو رعایت کی وجہ قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں ذات پات ایف آئی آر کورٹ نے کے ذکر

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ