سپریم کورٹ؛ مقدمے میں ذات پات و مذہبی شناخت کے ذکر پر پابندی، عمر قید کی سزا 15 سال میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم ارشد عرف بلو کی عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی، عدالت نے ایف آئی آر اور پولیس ریکارڈ میں نو مسلم شیخ لکھنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے تمام صوبوں کے آئی جیز اور اسلام آباد پولیس کو ایف آئی آر میں ذات پات اور برادری کے ذکر سے روک دیا۔
فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا۔ بینچ میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کسی شخص کے قبول اسلام کی بنیاد پر حیثیت یا وقار میں کوئی فرق نہیں، کسی بھی شخص کو تبدیلِ مذہب کی بنیاد پر نیا یا الگ ظاہر کرنا غیر قانونی ہے۔ انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بھنگی، چوڑا اور مسلی جیسے الفاظ ذات کی پہچان نہیں بلکہ تضحیک کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دیکھ کر دکھ ہوتا کہ معاشرہ انسان کی عزت اس کے وقار کے بجائے اس کے پیشے کی نوعیت سے طے کرتا ہے، پولیس ریکارڈ میں ذات پات کے سابقے یا لاحقے لگانا آئینِ پاکستان کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے فیصلے میں لکھا کہ آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 26 مذہب، نسل، ذات یا جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو روکتا ہے، شہروں کو رہنے کے قابل بنانے والوں کو گندا اور کم تر سمجھنا ایک اخلاقی ناکامی ہے۔ قانون اور معاشرے کی نظر میں ہر شخص وقار، عزت اور برابری کا حقدار ہے چاہے اس کا پیشہ کچھ بھی ہو۔
مزید پڑھیںچھوٹوں گینگ کیس؛ دوران سماعت رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پر عدالت کے دلچسپ ریمارکس
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے آئی جیز اور اسلام آباد پولیس کو ایف آئی آر میں ذات پات اور برادری کے ذکر سے روکتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کی یادداشت، برآمدگی رپورٹ اور چالان میں بھی کسی کی ذات یا قبائلی شناخت نہیں لکھی جائے گی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے لکھا کہ پولیس ریکارڈ میں کسی کے تبدیلیِ مذہب کی حیثیت یا تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال ممنوع ہوگا۔ ذات کا ذکر صرف اس صورت میں ہو سکے گا جہاں تفتیشی افسر کے پاس اس کی تحریری اور ٹھوس وجوہات ہوں۔
پولیس نے ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ جہانگیر کے نام کے ساتھ ’’نو مسلم شیخ‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ ملزم ارشد بلو نے اکتوبر 2004 میں مقتول محمد طفیل کو قتل کیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ پریم کورٹ نے جائے وقوعہ پر ہاتھا پائی اور مقتول کے جسم کے غیر اہم حصے پر ایک فائر کو رعایت کی وجہ قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ذات پات ایف آئی آر کورٹ نے کے ذکر
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔