سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں ملزم ارشد عرف بلو کی عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی ہے۔

مذکورہ مقدمے کی ایف آئی آر اور پولیس ریکارڈ میں ذات پات اور تبدیلیِ مذہب کا حوالہ دینے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر کی پولیس کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ جسے جسٹس ہاشم کاکڑ نے تحریر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسلام میں کسی شخص کے قبولِ اسلام کی بنیاد پر اس کی حیثیت یا وقار میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کسی بھی شخص کو تبدیلِ مذہب کی بنیاد پر نیا یا الگ ظاہر کرنا غیر قانونی ہے۔

عدالت نے کہا کہ انسانی وقار کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔

مزید پڑھیں:

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بھنگی، چوڑا اور مسلی جیسے الفاظ ذات کی پہچان نہیں بلکہ تضحیک کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ معاشرہ انسان کی عزت اس کے وقار کے بجائے اس کے پیشے کی نوعیت سے طے کرتا ہے۔

’شہریوں کو رہنے کے قابل بنانے والوں کو گندا اور کم تر سمجھنا ایک اخلاقی ناکامی ہے۔ قانون اور معاشرے کی نظر میں ہر شخص وقار، عزت اور برابری کا حقدار ہے چاہے اس کا پیشہ کچھ بھی ہو۔‘

مزید پڑھیں:

عدالت نے قرار دیا کہ پولیس ریکارڈ میں ذات پات کے سابقے یا لاحقے لگانا آئینِ پاکستان کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 26 مذہب، نسل، ذات یا جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو روکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے آئی جیز اور اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ایف آئی آر، گرفتاری کی یادداشت، برآمدگی رپورٹ اور چالان میں کسی کی ذات، برادری، قبائلی شناخت یا تبدیلیِ مذہب کا ذکر نہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں:

پولیس ریکارڈ میں کسی کی تبدیلیِ مذہب کی حیثیت یا تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال ممنوع ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ذات کا ذکر صرف اسی صورت میں کیا جا سکے گا جب تفتیشی افسر کے پاس اس کی تحریری اور ٹھوس وجوہات موجود ہوں۔

مقدمے کے مطابق پولیس نے ایف آئی آر میں مدعی جہانگیر کے نام کے ساتھ ’نو مسلم شیخ‘ کا لفظ استعمال کیا تھا، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ ملزم ارشد عرف بلو نے اکتوبر 2004 میں محمد طفیل کو قتل کیا تھا، جس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی، جسے لاہور ہائیکورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں:

سپریم کورٹ نے جائے وقوعہ پر ہاتھا پائی اور مقتول کے جسم کے غیر اہم حصے پر ایک فائر کو رعایت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر زور دیا کہ آئین اور قانون کے تحت ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد پولیس ایف آئی آر برادری بھنگی تبدیلی مذہب تضحیک آمیز چالان چوڑا ذات سپریم کورٹ قبائلی شناخت گرفتاری مسلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس ایف ا ئی ا ر بھنگی تبدیلی مذہب تضحیک آمیز چالان چوڑا ذات سپریم کورٹ قبائلی شناخت گرفتاری مسلی مزید پڑھیں سپریم کورٹ فیصلے میں عدالت نے کی بنیاد کورٹ نے

پڑھیں:

سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس