کشور پور واقعہ: مرکزی ملزم گرفتار، پولیس کا کریک ڈاؤن تیز
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ:سندھ کے ضلع نواب شاہ میں پولیس نے کشور پور کے علاقے میں پیش آنے والے تصادم کے معاملے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم میر محمد بھنڈ کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد اس کیس میں گرفتار مرکزی ملزمان کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی ہے، کارروائی ایس ایس پی سمیر نور چنہ کی براہ راست ہدایات پر کی گئی۔
پولیس ترجمان کے مطابق میر محمد بھنڈ کو خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا اور ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی ہے، واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مفرور افراد کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جائے وقوعہ پر بھنڈ پولیس پکٹ قائم کر دی ہے، جہاں جدید اسلحے سے لیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، اس اقدام کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس کا خاتمہ اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا ہے۔
حکام کے مطابق اب تک گرفتار ملزمان میں استاد مہر علی، روشن علی، سمیر، گل حسن، ابن اور میر محمد بھنڈ شامل ہیں، تمام ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایس ایس پی نے اپنے بیان میں کہا کہ ضلع بینظیر آباد میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی، پولیس قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور علاقے میں پائیدار امن کے قیام تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ گرفتاریوں کے بعد علاقے میں صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے اور شہریوں نے پولیس کی کارروائی کو مثبت قدم قرار دیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ مکمل امن کے قیام تک آپریشن اور نگرانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقے میں کے مطابق کے لیے گئی ہے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔