غزہ میں امریکی اڈے کی تعمیر کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں گارڈین کا کہنا تھا کہ جب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) سے اس اڈے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب "امن کونسل" سے لیا جائے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی اخبار "گارڈین" نے ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ، غزہ میں ایک فوجی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جس میں تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کو تعینات کرنے کی گنجائش ہوگی.
ان دستاویزات میں ایک حصہ انسانی باقیات کے بارے میں ہے جو صیہونی بمباری کے ذریعے ملبے تلے دبی ہیں۔ ہزاروں لاشیں ملبے تلے ہونے کے باعث یہ موضوع انتہائی حساس قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) سے اس اڈے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب "امن کونسل" سے لیا جائے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ غزہ کی سرزمین پر کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں ہو گا۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے "پیس بورڈ" کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی فورس تشکیل دینے کا ذمہ دیا۔ تاہم ابھی تک اس فورس کے مشن میں کئی ابہامات موجود ہیں جس میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنے میں اس فورس کا کردار، سرفہرست ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔