Islam Times:
2026-07-24@01:03:42 GMT

غزہ میں امریکی اڈے کی تعمیر کا منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

غزہ میں امریکی اڈے کی تعمیر کا منصوبہ

اپنی ایک رپورٹ میں گارڈین کا کہنا تھا کہ جب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) سے اس اڈے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب "امن کونسل" سے لیا جائے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی اخبار "گارڈین" نے ایک دستاویز جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکہ، غزہ میں ایک فوجی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جس میں تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کو تعینات کرنے کی گنجائش ہوگی.

اس میں 26 بکتر بند واچ ٹاورز، متعدد پناہ گاہیں، ہلکے ہتھیاروں کی مشق کے لئے میدان اور فوجی سازوسامان ذخیرہ کرنے کے گودام شامل ہوں گے۔ اس پورے کمپلیکس کو خاردار تاروں سے گھیرنے کا منصوبہ ہے۔ گارڈین نے مزید بتایا کہ اڈے کی مجوزہ جگہ جنوبی غزہ کے ایک کھلے اور کم آبادی والے علاقے میں ہے، جہاں صیہونی رژیم کی بمباری سے ہونے والی تباہی کے آثار، وسیع پیمانے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متحارب علاقوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے نمائندے پہلے ہی اس جگہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس مشکوک معاہدے کی دستاویزات میں سرنگوں اور زیر زمین جگہوں کی جانچ کی ضرورت کا بھی ذکر ہے، جو درحقیقت فلسطینی مزاحمت کی سرنگوں کے نیٹ ورک سے منسلک ہے۔

ان دستاویزات میں ایک حصہ انسانی باقیات کے بارے میں ہے جو صیہونی بمباری کے ذریعے ملبے تلے دبی ہیں۔ ہزاروں لاشیں ملبے تلے ہونے کے باعث یہ موضوع انتہائی حساس قرار دے دیا گیا ہے۔ اب جب امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) سے اس اڈے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب "امن کونسل" سے لیا جائے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ ان دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ غزہ کی سرزمین پر کوئی امریکی فوجی تعینات نہیں ہو گا۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے "پیس بورڈ" کو غزہ میں ایک عارضی بین الاقوامی فورس تشکیل دینے کا ذمہ دیا۔ تاہم ابھی تک اس فورس کے مشن میں کئی ابہامات موجود ہیں جس میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنے میں اس فورس کا کردار، سرفہرست ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار