امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں اس منصوبے کی تشکیل، تکمیل اور اغراض و مقاصد پر کھل کر گفتگو کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا قائم کردہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کے معاملات پر بھی نظر رکھے گا تاکہ یو این درست طریقے سے کام کرے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کا تشکیل کردہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی کارکردگی، بالخصوص مالی امور، کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید وضاحت کیے بغیر کہا کہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کو مالی لحاظ سے سہارا دے سکتا ہے اور یہ یقینی بنائے گا کہ ادارہ قابلِ عمل رہے۔

انھوں نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے بارے میں اپنا پرانا مؤقف دہرایا کہ اس میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے لیکن ویسا کام نہیں کر رہا جیسا ہونا چاہیئے۔

صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی چیز بننے جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہوگا جس کی مثال دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔

یاد رہے کہ بورڈ آف پیس کے تشکیل کے وقت یورپی ممالک نے سب سے بڑا اعتراض یہی اُٹھایا تھا کہ یہ اقوام متحدہ سے متصادم ادارہ ہوگا۔

سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ ایک کثیرالجہتی ادارہ ہے، جس کے فیصلے تمام رکن ممالک کی مشاورت سے ہوتے ہیں۔

یورپی ممالک پہلے ہی اس نظریے کو مسترد کرچکے ہیں کہ اقوام متحدہ پر کسی ایک ملک یا اس کے قائم کردہ بورڈ کی بالادستی قبول نہیں کی جا سکتی۔

بعض یورپی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے اقوامِ متحدہ کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی نظام میں طاقت کا توازن بگڑنے کا خطرہ ہے۔

فرانسیسی اور جرمن حکام نے غیر رسمی گفتگو میں اس خیال پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس کے اختیارات کی نوعیت واضح نہیں اور یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہوگا۔

اب جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اشارہ دیدیا ہے کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی نگرانی گا اور اس پر یورپی اعتراضات آنے والے دنوں میں عالمی سفارتی محاذ پر نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ بورڈ ا ف پیس ف پیس اقوام کہ بورڈ

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت