WE News:
2026-06-02@20:44:14 GMT

سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ

سعودی عرب میں کھجوریں نہ صرف مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ مہمان نوازی اور روایتی رسموں کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے رمضان کے دوران افطار کی میزوں کا لازمی جزو بن جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کی آمد، جدہ کی کھجور مارکیٹوں میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ

عرب نیوز کے مطابق رمضان کے مہینے میں سعودی عرب کی کھجور کی صنعت میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔

مذہبی رسومات اور تحفہ دینے کے رواج کی بدولت سپر مارکیٹوں اور پریمیم پیکنگ سیکشن میں طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

معاشی مشیر فاضل البنین نے بتایا کہ سال بھر کھجور کی طلب مستحکم رہتی ہے لیکن رمضان میں مقامی استعمال میں واضح اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سعودی کھجور کی عالمی سطح پر بھی طلب میں اضافہ ہوا ہے تاہم رمضان میں مقامی طلب نمایاں بڑھ جاتی ہے کیونکہ کھجور افطار کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

اکثر لوگ روزہ افطار کرتے وقت تازہ رتب کھجور یا اگر وہ دستیاب نہ ہوں تو خشک کھجور کو ترجیح دیتے ہیں جس کے ساتھ کھجور کی غذائیت بھی طویل روزے کے دوران اہمیت رکھتی ہے۔

رمضان بمقابلہ پیداواری سیزن

فاضل البنین کے مطابق رمضان میں سیلز اور برآمدات میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن یہ کھجور کی صنعت کا حقیقی اقتصادی عروج نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی عروج کھجور کی فصل کے بعد ہوتا ہے جب مارکیٹس میں بڑی مقدار میں کھجور فروخت ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا رمضان 2026 کے لیے پاکستان میں فوڈ باسکٹ پراجیکٹ کا آغاز

ان کا کہنا تھا کہ رمضان ریٹیل سیکٹر کے لیے اہم موسم ضرور ہے لیکن پیداواری اور ہول سیل سیزن سے مختلف ہے۔

فصل کے وقت ہونے والی نیلامیوں میں بڑے پیمانے پر ہول سیل فروخت کی جاتی ہے، جبکہ رمضان میں زیادہ تر فروخت پہلے سے موجود ذخیرے سے ہوتی ہے۔

قیمتیں اور مارکیٹ کی صورتحال

فاضل البنین نے کہا کہ پیداوار کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روایتی کھجوریں عام چینلز سے فروخت ہوتی ہیں اور قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قیمت میں اضافہ زیادہ تر پروسیس شدہ یا خوبصورت پیکنگ والے کھجوروں میں ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: تاریخی سرخ لاری: سعودی عرب اور خلیج کی ثقافتی پہچان

انہوں نے وضاحت کی کہ قیمتیں خاص طور پر جدید پیکنگ یا اضافی اجزا جیسے بادام وغیرہ والے پروسیس شدہ کھجور پر اثر انداز ہوتی ہیں اور روایتی کھجور کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔

پیداوار اور برآمدات

سعودی عرب میں زیادہ تر کھجور مقامی پیداوار ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں محدود پروسیس شدہ مصنوعات دستیاب ہیں۔

سال 2024 میں سعودی کھجور کی برآمدات 1.

695 بلین سعودی ریال تک پہنچ گئیں جبکہ پیداوار 1.9 ملین ٹن سے زائد رہی اور کھجور 133 ممالک کو برآمد ہوئی جو سال 2023 کے مقابلے میں 15.9 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: رمضان المبارک: لوگ بلوچستان کی کھجور زیادہ کیوں کھاتے ہیں؟

ویژن 2030 کے بعد سنہ 2016 سے سنہ 2024 کے درمیان برآمدی قدر میں 192.5 فیصد اضافہ ہوا۔ سعودی عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک، 33 ملین سے زائد کھجور کے درختوں کا گھر ہے جو عالمی ٹوٹل کا 27 فیصد بنتے ہیں۔

کھجور کی اہمیت اور مستقبل کے امکانات

فاضل البنین نے کھجور کو سعودی عرب کی خوراکی تحفظ کی فریم ورک میں ایک اسٹریٹجک جزو قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ صنعت میں مزید ترقی کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، بہتر کیڑوں سے تحفظ اور ویلیو چین میں مضبوط ہم آہنگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھجور کے سیکٹر کو ایک واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ سعودی عرب میں پیدا ہونے والی کھجور سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: سائنسدانوں نے غاروں میں ملے 2 ہزار سال پرانے بیجوں سے درخت اگالیے

ان کا کہنا ہے کہ کیڑوں جیسے ریڈ پام ویو اور دیگر نقصان دہ عوامل کے مکمل حل اور قومی کھجور کمپنی کے قیام کی ضرورت ہے جو فصل خریدے، پروسیس کرے، پیک کرے، تقسیم کرے اور برآمد کرے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کھجور پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری سے معیشت کے لیے اضافی قدر پیدا ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی عرب سعودی عرب میں کھجوروں کی کھپت کھجوریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کھجوریں انہوں نے کہا کہ فاضل البنین میں اضافہ میں کھجور کھجور کی ہوتا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے