سعودی عرب: رمضان میں کھجوروں کی طلب میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سعودی عرب میں کھجوریں نہ صرف مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ مہمان نوازی اور روایتی رسموں کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے رمضان کے دوران افطار کی میزوں کا لازمی جزو بن جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کی آمد، جدہ کی کھجور مارکیٹوں میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ
عرب نیوز کے مطابق رمضان کے مہینے میں سعودی عرب کی کھجور کی صنعت میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔
مذہبی رسومات اور تحفہ دینے کے رواج کی بدولت سپر مارکیٹوں اور پریمیم پیکنگ سیکشن میں طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔
معاشی مشیر فاضل البنین نے بتایا کہ سال بھر کھجور کی طلب مستحکم رہتی ہے لیکن رمضان میں مقامی استعمال میں واضح اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سعودی کھجور کی عالمی سطح پر بھی طلب میں اضافہ ہوا ہے تاہم رمضان میں مقامی طلب نمایاں بڑھ جاتی ہے کیونکہ کھجور افطار کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
اکثر لوگ روزہ افطار کرتے وقت تازہ رتب کھجور یا اگر وہ دستیاب نہ ہوں تو خشک کھجور کو ترجیح دیتے ہیں جس کے ساتھ کھجور کی غذائیت بھی طویل روزے کے دوران اہمیت رکھتی ہے۔
رمضان بمقابلہ پیداواری سیزنفاضل البنین کے مطابق رمضان میں سیلز اور برآمدات میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن یہ کھجور کی صنعت کا حقیقی اقتصادی عروج نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی عروج کھجور کی فصل کے بعد ہوتا ہے جب مارکیٹس میں بڑی مقدار میں کھجور فروخت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا رمضان 2026 کے لیے پاکستان میں فوڈ باسکٹ پراجیکٹ کا آغاز
ان کا کہنا تھا کہ رمضان ریٹیل سیکٹر کے لیے اہم موسم ضرور ہے لیکن پیداواری اور ہول سیل سیزن سے مختلف ہے۔
فصل کے وقت ہونے والی نیلامیوں میں بڑے پیمانے پر ہول سیل فروخت کی جاتی ہے، جبکہ رمضان میں زیادہ تر فروخت پہلے سے موجود ذخیرے سے ہوتی ہے۔
قیمتیں اور مارکیٹ کی صورتحالفاضل البنین نے کہا کہ پیداوار کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روایتی کھجوریں عام چینلز سے فروخت ہوتی ہیں اور قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قیمت میں اضافہ زیادہ تر پروسیس شدہ یا خوبصورت پیکنگ والے کھجوروں میں ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: تاریخی سرخ لاری: سعودی عرب اور خلیج کی ثقافتی پہچان
انہوں نے وضاحت کی کہ قیمتیں خاص طور پر جدید پیکنگ یا اضافی اجزا جیسے بادام وغیرہ والے پروسیس شدہ کھجور پر اثر انداز ہوتی ہیں اور روایتی کھجور کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔
پیداوار اور برآمداتسعودی عرب میں زیادہ تر کھجور مقامی پیداوار ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں محدود پروسیس شدہ مصنوعات دستیاب ہیں۔
سال 2024 میں سعودی کھجور کی برآمدات 1.
یہ بھی پڑھیے: رمضان المبارک: لوگ بلوچستان کی کھجور زیادہ کیوں کھاتے ہیں؟
ویژن 2030 کے بعد سنہ 2016 سے سنہ 2024 کے درمیان برآمدی قدر میں 192.5 فیصد اضافہ ہوا۔ سعودی عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک، 33 ملین سے زائد کھجور کے درختوں کا گھر ہے جو عالمی ٹوٹل کا 27 فیصد بنتے ہیں۔
کھجور کی اہمیت اور مستقبل کے امکاناتفاضل البنین نے کھجور کو سعودی عرب کی خوراکی تحفظ کی فریم ورک میں ایک اسٹریٹجک جزو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ صنعت میں مزید ترقی کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، بہتر کیڑوں سے تحفظ اور ویلیو چین میں مضبوط ہم آہنگی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھجور کے سیکٹر کو ایک واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ سعودی عرب میں پیدا ہونے والی کھجور سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: سائنسدانوں نے غاروں میں ملے 2 ہزار سال پرانے بیجوں سے درخت اگالیے
ان کا کہنا ہے کہ کیڑوں جیسے ریڈ پام ویو اور دیگر نقصان دہ عوامل کے مکمل حل اور قومی کھجور کمپنی کے قیام کی ضرورت ہے جو فصل خریدے، پروسیس کرے، پیک کرے، تقسیم کرے اور برآمد کرے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کھجور پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری سے معیشت کے لیے اضافی قدر پیدا ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب سعودی عرب میں کھجوروں کی کھپت کھجوریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کھجوریں انہوں نے کہا کہ فاضل البنین میں اضافہ میں کھجور کھجور کی ہوتا ہے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔