200 ملین ڈالر بجٹ جیسی فلم اے آئی کی مدد سے صرف چوبیس گھنٹے میں تیار، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سوشل میڈیا پر ایک اے آئی جنریٹڈ فلم کلپ تیزی سے وائرل ہورہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ صرف ایک دن میں 200 ملین ڈالر (تقریباً 60 ارب پاکستانی روپے) کے برابر ’’ہائی-بجٹ‘‘ فلم جیسا مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
اس بیان نے نہ صرف انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بلکہ ہالی ووڈ کے فلم سازوں اور ڈیجیٹل تخلیق کاروں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جرمن کریئیٹو اسٹوڈیو ’دی ڈور برادرز‘ نے تقریباً تین منٹ کی سائنس فکشن مختصر فلم جاری کی، جس میں بڑے شہروں کے تباہ کن مناظر، دھماکے، اور سینماٹک شاٹس دکھائے گئے ہیں جو روایتی بڑے فلم ساز اداروں کے معیار کی یاد دلاتے ہیں۔
اسٹوڈیو کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو 24 گھنٹے میں مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ہے، جس میں فلمی عمل جیسے کیمرا، اداکار، حقیقی سیٹ یا روایتی VFX پروسیسنگ شامل نہیں تھی۔
اگرچہ 200 ملین ڈالر کا ذکر فلم کے اصل بجٹ کے طور پر نہیں بلکہ ’’بڑے فلمی پروڈکشن‘‘ کی پروڈکشن ویلیو کے تناظر میں کیا گیا، اس کے باوجود یہ تجربہ اے آئی کی تیز رفتار قابلیت کو اجاگر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اے آئی جنریٹو سسٹمز آج کل بڑے سینماٹک مناظر کس حد تک تخلیق کرسکتے ہیں۔
We only done a $200,000,000 AI film in only one day.
Yes, this is 100% AI. pic.twitter.com/TMotM7rguY
— The Dor Brothers (@thedorbrothers) February 16, 2026
ویڈیو کو اسٹوڈیو نے اپنی DorLabs پلیٹ فارم کے ٹولز استعمال کرتے ہوئے بنایا، جہاں بشمول تصور، بصری مناظر، اور تدوین سن کچھ اے آئی کی مدد سے کیا گیا۔ اس پروجیکٹ میں سینماٹک کیمرہ موشن اور بڑے شہر کے مناظر جیسے عناصر شامل کیے گئے، جس کے لیے عموماً مہینوں کی محنت اور سیکڑوں ویژوئل ایفیکٹس آرٹسٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس ویڈیو کے آن لائن وائرل ہونے کے بعد صارفین کے ملے جلے جذبات سامنے آئے ہیں۔ بہت سے ناظرین نے فوٹو ریئلسٹک مناظر اور اناٹ موشن کی تعریف کی ہے، جبکہ کچھ نے فزکس کی منطقی غلطیاں، کردار کی کمی، اور کہانی کی کم گہرائی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکمل فلم سے زیادہ ایک اے آئی ٹیکنیکل ڈیمو ہے۔
یہ تجربہ نہ صرف اے آئی کی صلاحیتوں کو سامنے لاتا ہے بلکہ فلم اور ویژوئل ایفیکٹس انڈسٹری میں روایتی طریقوں اور انسانی محنت کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک مثال ہے کہ فلم کے بڑے مناظر اور بصریاتی معیار کو ایک معمولی وقت میں حاصل کیا جا سکتا ہے، حالانکہ اے آئی اب بھی کرداروں اور کہانی کی گہرائی جیسے انسانی عوامل میں مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہوا۔
اس وائرل ویڈیو کلپ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی صرف مختصر ویڈیوز یا VFX میں نہیں بلکہ مستقبل میں لمبی فیچر فلموں میں بھی حصہ لے سکتا ہے، جو فلمی صنعت کے ڈھانچے کو بدل سکتا ہے چاہے وہ تخلیق، تخیل، یا روایت ہو۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اے ا ئی کی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔