Islam Times:
2026-06-02@20:44:38 GMT

علامہ سید ہاشم موسوی سے سانحہ ترلائی سے متعلق خصوصی گفتگو

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی تکفیری سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے وحدت کا پیغام دیا ہے، اگر مسلکی اختلافات ہیں بھی تو انہیں اپنے حد تک قبول کیا جا سکتا ہے، تاہم تکفیری گروہ نے انکا غلط استعمال کرکے دوسرے مسلمانوں کے قتل کا جواز بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسلام آباد جیسے حساس شہر میں دھماکہ حکومت کی ناکامی ہے، حکومت کے نام پر حکمران وی آئی پی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اصل ذمہ داری نبھانے میں فیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واقعہ میں ملوث سہولتکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ 30 سال سے جاری ہے، کوئٹہ میں بھی دہشتگردی کا طویل سلسلہ رہا، تاہم آج تک ایک بھی قاتل کو سزا نہیں ہوئی۔ متعلقہ فائیلیںکوئٹہ سے تعلق رکھنے والے علامہ سید ہاشم موسوی امام جمعہ کوئٹہ اور مجلس علمائے مکتب اہلبیتؑ پاکستان کے مرکزی نظارت کے رکن ہیں۔ انکے والد گرامی سید محمد شاہ اپنے علاقے میں دین کی ابتدائی تعلیمات دینے اور دیگر مذہبی امور میں مصروف رہتے تھے۔ علامہ ہاشم موسوی نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے پرائمری سکول اور اسلامیہ ہائی سکول سے حاصل کی۔ دور طالب علمی میں ہی انہوں نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور اپنی دینی و سماجی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے چند برسوں بعد دینی تعلیمات کا بھی آغاز کیا اور شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیمات علامہ عارف حسینی کے مدرسے سے حاصل کیں، جو پاراچنار میں واقع ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا اور 1988ء کو قم المقدس چلے گئے۔ وہ بائس سال تک وہاں زیر تعلیم رہے۔ علامہ ہاشم موسوی تعلیم حاصل کرنے کے دوران بھی وقتاً فوقتاً کوئٹہ آتے اور تبلیغات دین میں حصہ لیتے تھے۔ بعد ازاں اس دور میں کوئٹہ کے امام جمعہ علامہ یعقوب توسلی علیل ہوگئے تو مومنین نے ان سے کوئٹہ تشریف لانے کی درخواست کی اور انکو امام جمعہ کوئٹہ کے منصب پر فائز کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی دینی خدمات جاری رکھتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قیام میں بھی حصہ لیا اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے راستے ہموار کئے۔

علامہ سید ہاشم موسوی اس وقت مجلس علمائے مکتب اہلبیتؑ پاکستان کے مرکزی نظارت کے رکن ہیں۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی تکفیری سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے وحدت کا پیغام دیا ہے۔ اگر مسلکی اختلافات ہیں بھی تو انہیں اپنے حد تک قبول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تکفیری گروہ نے ان کا غلط استعمال کرکے دوسرے مسلمانوں کے قتل کا جواز بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسلام آباد جیسے حساس شہر میں دھماکہ حکومت کی ناکامی ہے۔ حکومت کے نام پر حکمران وی آئی پی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اصل ذمہ داری نبھانے میں فیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واقعہ میں ملوث سہولتکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ 30 سال سے جاری ہے، کوئٹہ میں بھی دہشتگردی کا طویل سلسلہ رہا، تاہم آج تک ایک بھی قاتل کو سزا نہیں ہوئی۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ سید ہاشم موسوی انہوں نے کہا کہ کہ حکومت کی کرتے ہوئے

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے