علامہ سید ہاشم موسوی سے سانحہ ترلائی سے متعلق خصوصی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی تکفیری سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے وحدت کا پیغام دیا ہے، اگر مسلکی اختلافات ہیں بھی تو انہیں اپنے حد تک قبول کیا جا سکتا ہے، تاہم تکفیری گروہ نے انکا غلط استعمال کرکے دوسرے مسلمانوں کے قتل کا جواز بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسلام آباد جیسے حساس شہر میں دھماکہ حکومت کی ناکامی ہے، حکومت کے نام پر حکمران وی آئی پی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اصل ذمہ داری نبھانے میں فیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واقعہ میں ملوث سہولتکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ 30 سال سے جاری ہے، کوئٹہ میں بھی دہشتگردی کا طویل سلسلہ رہا، تاہم آج تک ایک بھی قاتل کو سزا نہیں ہوئی۔ متعلقہ فائیلیںکوئٹہ سے تعلق رکھنے والے علامہ سید ہاشم موسوی امام جمعہ کوئٹہ اور مجلس علمائے مکتب اہلبیتؑ پاکستان کے مرکزی نظارت کے رکن ہیں۔ انکے والد گرامی سید محمد شاہ اپنے علاقے میں دین کی ابتدائی تعلیمات دینے اور دیگر مذہبی امور میں مصروف رہتے تھے۔ علامہ ہاشم موسوی نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے پرائمری سکول اور اسلامیہ ہائی سکول سے حاصل کی۔ دور طالب علمی میں ہی انہوں نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور اپنی دینی و سماجی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے چند برسوں بعد دینی تعلیمات کا بھی آغاز کیا اور شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیمات علامہ عارف حسینی کے مدرسے سے حاصل کیں، جو پاراچنار میں واقع ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا اور 1988ء کو قم المقدس چلے گئے۔ وہ بائس سال تک وہاں زیر تعلیم رہے۔ علامہ ہاشم موسوی تعلیم حاصل کرنے کے دوران بھی وقتاً فوقتاً کوئٹہ آتے اور تبلیغات دین میں حصہ لیتے تھے۔ بعد ازاں اس دور میں کوئٹہ کے امام جمعہ علامہ یعقوب توسلی علیل ہوگئے تو مومنین نے ان سے کوئٹہ تشریف لانے کی درخواست کی اور انکو امام جمعہ کوئٹہ کے منصب پر فائز کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی دینی خدمات جاری رکھتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قیام میں بھی حصہ لیا اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے راستے ہموار کئے۔
علامہ سید ہاشم موسوی اس وقت مجلس علمائے مکتب اہلبیتؑ پاکستان کے مرکزی نظارت کے رکن ہیں۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی تکفیری سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن نے وحدت کا پیغام دیا ہے۔ اگر مسلکی اختلافات ہیں بھی تو انہیں اپنے حد تک قبول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تکفیری گروہ نے ان کا غلط استعمال کرکے دوسرے مسلمانوں کے قتل کا جواز بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اسلام آباد جیسے حساس شہر میں دھماکہ حکومت کی ناکامی ہے۔ حکومت کے نام پر حکمران وی آئی پی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اصل ذمہ داری نبھانے میں فیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واقعہ میں ملوث سہولتکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ 30 سال سے جاری ہے، کوئٹہ میں بھی دہشتگردی کا طویل سلسلہ رہا، تاہم آج تک ایک بھی قاتل کو سزا نہیں ہوئی۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ سید ہاشم موسوی انہوں نے کہا کہ کہ حکومت کی کرتے ہوئے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔