ہاکی فیڈریش بحران: بدانتظامی کا نوٹس، محی الدین وانی کو ایڈہاک صدر تعینات کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ہاکی فیڈریشن میں بدانتظامی کے نوٹس کے بعد سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی کو ایڈہاک صدر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔
سابق صدر کا استعفیٰ منظور کرنے کے ساتھ وزیراعظم نے فیڈریشن میں انتخابات کرانے کی ہدایت بھی کی۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے دورہ آسٹریلیا سے متعلق پی ایس بی کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی فیڈریشن کو قصور وار قرار دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کی انکوائری کمیٹی نے رپورٹ وزیراعظم کے دفتر کو ارسال کی، جس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کو آسٹریلیا میں بدانتظامی کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیم کو 2 فروری کو لاہور سے روانہ ہونا تھا اور 4 فروری کو ہوبارٹ پہنچنا تھا، لیکن ویزا درخواستوں میں تاخیر اور غلطیوں کی وجہ سے شیڈول پرواز منسوخ ہوگئی۔
نئے ٹکٹس بنوانے پر پی ایس بی نے 2 کروڑ 71 لاکھ روپے اضافی خرچ برداشت کیا، جبکہ ویزا پراسیس میں مزید 97 لاکھ روپے کا مالی بوجھ بھی پی ایس بی نے اٹھایا۔ آسٹریلیا میں ٹیم کی رہائش کے لیے 49 ہزار 280 ڈالر پیشگی فراہم کیے گئے، لیکن ٹیم کو ڈبل ٹری بائی ہلٹن ہوٹل میں قیام نہ دیا گیا، جس کے لیے رقم پہلے ہی جاری کی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کھلاڑیوں کو یومیہ 115 امریکی ڈالر فی کس الاؤنس بھی دیا گیا، جبکہ دیگر اخراجات کے لیے تقریباً 3 ہزار امریکی ڈالر فراہم کیے گئے۔ پاکستان ہاکی ٹیم 5 فروری کو روانہ ہوئی اور 7 فروری کو ہوبارٹ پہنچی، جس دوران 6 سے 14 فروری تک ٹیم کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈریشن میں بدانتظامی کا نوٹس لیتے ہوئے محی الدین وانی کو ایڈہاک صدر تعینات کیا اور فیڈریشن میں انتخابات کرانے کی ہدایت دی، تاکہ ہاکی کے معاملات شفاف انداز میں چلائے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ہاکی فیڈریشن میں پی ایس بی فروری کو دیا گیا کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :