ریپڈ سپورٹ فورسز کی باغی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے، سوڈانی حکومت کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ریپڈ سپورٹ فورسز کی باغی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے، سوڈانی حکومت کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2026 سب نیوز
جنیوا(خصوصی رپورٹ)سوڈان کی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں جاری جنگ بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کی گئی ہے، جن کا مقصد سوڈان کو اس کے وسائل پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کمزور اور تباہ کرنا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں اور علاقائی امن و سلامتی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)کی باغی ملیشیا کی جانب سے معصوم شہریوں کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور جرائم کو روکا جا سکے۔
حکومت نے زور دیا کہ عالمی برادری کو الفاشر کی طرح انتظار کرنے کے بجائے بروقت کارروائی کرنی چاہیے۔سوڈانی حکام نے مطالبہ کیا کہ آر ایس ایف باغی ملیشیا کو فراہم کی جانے والی ہر قسم کی مدد فوری طور پر بند کی جائے، جس میں کرائے کے جنگجوں، اسلحہ، مالی اور میڈیا معاونت شامل ہے، اور جس کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات سے آنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ سوڈان کسی ایسے امن منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جو سوڈانی فوج کو آر ایس ایف باغی ملیشیا کے برابر قرار دے یا ملیشیا کو اس کے مبینہ جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود برقرار رہنے کی اجازت دے۔ حکومت کے مطابق سوڈانی عوام اس قسم کے کسی بھی سمجھوتے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔مزید کہا گیا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی باغی ملیشیا کو اس کے مبینہ جرائم کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ اقدامات اسے دہشت گرد تنظیم کے زمرے میں لانے کے لیے کافی ہیں۔
سوڈان نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے گزشتہ دسمبر 2025 میں جمہوریہ سوڈان کے وزیر اعظم ڈاکٹر کامل ادریس کی جانب سے پیش کردہ امن اقدام کی حمایت کرے۔وزیراعظم کے مطابق یہ اقدام ایک حقیقت پسندانہ، قابلِ عمل اور جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کا مقصد شہریوں کا تحفظ، مظالم کا خاتمہ، ریاستی عملداری کی بحالی اور قومی مفاہمت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بیرونی طور پر مسلط نہیں کیا گیا بلکہ سوڈان کا اپنا تیار کردہ اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ جیتنے کا نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری تشدد کے اس سلسلے کو ختم کرنے کا معاملہ ہے جس نے سوڈان کو نقصان پہنچایا ہے۔وزیراعظم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ سوڈانی عوام کے لیے امن، انصاف اور وقار کے قیام میں شراکت دار بنے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرریٹائرڈ چیف جسٹس غلام مصطفی 5سال کیلئے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر مقرر ریٹائرڈ چیف جسٹس غلام مصطفی 5سال کیلئے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر مقرر وزیراعظم شہباز شریف یکم مارچ کو روس کا 2روزہ دورہ کرینگے پاک بھارت جنگ میں 11طیارے گرائے گئے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم انسان، اعلی سپہ سالار اور ٹف فائٹر ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور امریکا کے درمیان روز ویلٹ ہوٹل سے متعلق اقتصادی تعان کے ایم یو پر دستخط محی الدین وانی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈ ہاک صدر تعینات لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 4دہشت گرد ہلاکCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ریپڈ سپورٹ فورسز باغی ملیشیا کو کی باغی ملیشیا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔