غزہ امن بورڈ اجلاس: ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا غزہ کے عوام کے لیے روشن اور مستحکم مستقبل چاہتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے مختلف ممالک پہلے ہی سات ارب ڈالر سے زائد فنڈ فراہم کر چکے ہیں اور امریکا اضافی دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کرتا ہے، عالمی فٹبال تنظیم فیفا بھی غزہ منصوبوں کے لیے پچہتر ملین ڈالر جمع کرنے میں معاونت کرے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ مقصد ایسا غزہ دیکھنا ہے جہاں مؤثر حکمرانی ہو اور وہ انتہاپسندی یا دہشت گردی کا مرکز نہ رہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حماس ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امن کا راستہ مذاکرات اور بین الاقوامی شراکت سے ہی نکلے گا۔
امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وہ جلد اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس سے رابطہ کریں گے تاکہ عالمی ادارے کے کردار کو مؤثر بنایا جا سکے، اقوام متحدہ غزہ کے لیے دو ارب ڈالر کی امداد جمع کر رہی ہے اور چین اور روس بھی اس عمل میں شامل ہوں گے، اگرچہ اجلاس میں سلامتی کونسل کے بعض مستقل ارکان بشمول برطانیہ شریک نہیں تھے۔
ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امریکا بامعنی معاہدہ چاہتا ہے، اسے کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے، آئندہ دس دنوں میں ایران سے متعلق صورتحال واضح ہو جائے گی اور تہران کو امن کے راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ دنیا میں کئی جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور تنازع کے خاتمے کے قریب ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران انہوں نے کردار ادا کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ نہ رکی تو سخت معاشی اقدامات کیے جائیں گے۔
اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ غزہ امن بورڈ ایک منفرد عالمی فورم ہے جس کا کوئی متبادل نہیں اور اس کا مقصد صرف ایک ہے: خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنانا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔