Jasarat News:
2026-07-24@01:09:13 GMT

دہی صحت کے لیے قدرتی نعمت، ماہرین نے اہم فوائد بتا دیے

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

دہی صحت کے لیے قدرتی نعمت، ماہرین نے اہم فوائد بتا دیے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ دہی نہ صرف ایک سادہ اور عام خوراک ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بے شمار طبی فوائد بھی رکھتی ہے، جس کے باقاعدہ استعمال سے نظامِ ہاضمہ بہتر ہوتا اور جسمانی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔

 طبی ماہرین کے مطابق دہی میں موجود مفید بیکٹیریا آنتوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں اور معدے کی خرابی، تیزابیت اور بدہضمی جیسے مسائل میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق دہی کیلشیم، پروٹین، وٹامن بی ٹو اور وٹامن بی بارہ سے بھرپور ہوتی ہے، جو ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور پٹھوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، بڑھتی عمر کے افراد اور بچوں کے لیے دہی کا استعمال خاص طور پر مفید ہے کیونکہ یہ ہڈیوں کی کمزوری اور دانتوں کے مسائل سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔

طبی تحقیق کے مطابق دہی دل کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھنے میں مددگار ہوتی ہے، روزانہ مناسب مقدار میں دہی کھانے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گرمیوں کے موسم میں دہی جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے اور پانی کی کمی سے بچانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ دہی جلد کے لیے بھی مفید غذا ہے کیونکہ اس میں موجود قدرتی اجزاء جلد کو نرم، شفاف اور تروتازہ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ بعض ماہرین دہی کو قدرتی پروبائیوٹک قرار دیتے ہیں جو جسم کے اندر نقصان دہ جراثیم کے خلاف حفاظتی کردار ادا کرتی ہے۔

غذائی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ دہی کو متوازن غذا کا حصہ بنایا جائے تاہم ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز کیا جائے، خاص طور پر ان افراد کو احتیاط کرنی چاہیے جنہیں دودھ یا لیکٹوز سے الرجی ہو، تازہ اور خالص دہی کا استعمال ہی زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے جبکہ مصنوعی فلیور یا اضافی چینی والی دہی صحت کے فوائد کم کر سکتی ہے۔

طبی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی غذاؤں کو روزمرہ خوراک میں شامل کرنا مجموعی صحت بہتر بنانے کا مؤثر اور سادہ طریقہ ہے اور دہی اس ضمن میں ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہوتی ہے صحت کے کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ