Express News:
2026-07-24@01:45:13 GMT

پراکسی جنگ، خطے کا امن دائو پر

اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT

کوئٹہ اور بارکھان میں سی ٹی ڈی نے بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 14 فتنتہ الخوارج کو ہلاک کردیا، فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید جب کہ تین زخمی ہوگئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں نئی فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ خبر رساں ادارے فرانس 24 کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’’ پراکسی جنگ‘‘ کا نتیجہ ہیں۔

بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر خیبر کی تنگ گھاٹیوں تک پھیلا ہوا یہ خطہ ایک بار پھر بارود کی بو سے آشنا ہو رہا ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی قوتیں اب محض اندرونی بے چینی کا مظہر نہیں رہیں بلکہ ایک منظم، کثیرالجہتی اور سرحد پار سے تقویت پانے والی پراکسی جنگ کا چہرہ اختیار کر چکی ہیں۔ کوئٹہ اور بارکھان میں حالیہ کارروائیوں نے اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت اپنی شکست کے باوجود مکمل طور پر نابود نہیں ہوا، بلکہ نئے چہروں، نئی حکمت عملیوں اور نئے سرپرستوں کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے عناصر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا، جن میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے نام شامل ہیں۔ یہ محض اصطلاحات نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور عسکری رجحان کی علامت ہیں جو ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے، شہریوں میں خوف پھیلانے اور عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جب کسی صوبے کے دارالحکومت کے قریب اس نوعیت کے نیٹ ورکس سرگرم ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ دشمن محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری مراکز تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کی حکمت عملی اب دیہی یا قبائلی پٹی تک محدود نہیں رہی، یہ شہروں کی نفسیات، مارکیٹوں کی رونق اور تعلیمی اداروں کے سکون کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

 یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب خطے کی جغرافیائی سیاست ایک بار پھر تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے سرحدی نظم و نسق کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا اگر اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ۔ ان کا یہ بیان محض سفارتی سختی نہیں بلکہ ایک اضطراب کی عکاسی ہے، وہ اضطراب جو ریاست کو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ اس کی سلامتی کے خلاف منصوبہ بندی سرحد پار بیٹھ کر کی جا رہی ہے۔

 پراکسی جنگ کا مفہوم محض اسلحہ فراہم کرنے یا تربیت دینے تک محدود نہیں۔ یہ ایک مکمل بیانیہ کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا، مذہبی جذبات، لسانی محرومیاں اور معاشی ناہمواریاں۔ سب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ اس کا ہدف ریاست کی معیشت، سرمایہ کاری کا ماحول اور عالمی ساکھ بھی ہوتی ہے۔ جب کسی ملک میں بار بار دھماکوں اور حملوں کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی ہیں تو غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں۔ سیاحت، صنعت اور تجارت سب متاثر ہوتے ہیں۔ یوں دشمن بغیر روایتی جنگ کے بھی معیشت کو کمزور کر سکتا ہے۔ بلوچستان جیسے وسائل سے مالا مال صوبے میں اگر امن قائم نہ رہے تو معدنی ذخائر، بندرگاہی امکانات اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے سب غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان نے داخلی سطح پر وہ تمام اصلاحات کر لی ہیں جو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہیں؟ نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ایک اہم سنگ میل تھا، مگر اس پر عملدرآمد کی رفتار اور تسلسل ہمیشہ بحث کا موضوع رہا۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام، مدرسہ اصلاحات، اور عدالتی نظام کی بہتری، یہ سب وہ پہلو ہیں جن پر مستقل توجہ درکار ہے، اگر داخلی کمزوریاں برقرار رہیں گی تو بیرونی مداخلت کے لیے راستے کھلے رہیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسی کا تسلسل اور سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرط ہے۔

خطے کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو جنوبی ایشیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف معاشی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور تجارتی راہداریوں کے خواب ہیں۔ دوسری طرف بداعتمادی، سرحدی کشیدگی اور پراکسی جنگوں کا سایہ۔ اگر دہشت گردی کا عفریت دوبارہ مضبوط ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ افغانستان پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، ایران کے ساتھ سرحدی معاملات حساس ہیں۔ کسی ایک چنگاری سے پورا خطہ لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

عالمی طاقتیں بھی اس منظرنامے سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں۔ اگر واقعی افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو یہ صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی امن کا معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مؤثر سفارتی دباؤ اور نگرانی کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے عالمی تعاون اور معلومات کا تبادلہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج توازن کا ہے۔ سختی اور حکمت، طاقت اور مفاہمت، خود مختاری اور علاقائی تعاون کے درمیان توازن۔ اگر فضائی کارروائیاں ناگزیر ہو جائیں تو ان کے سفارتی اور قانونی مضمرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا تاکہ وقتی فائدہ طویل المدتی نقصان میں تبدیل نہ ہو۔ سرحد پار کارروائی کی قیمت صرف عسکری نہیں، سیاسی اور سفارتی بھی ہوتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جانیں ضایع ہوئیں، خاندان اجڑے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک جامع، غیر مبہم اور مستقل مزاج پالیسی اختیار کرے۔ وقتی سیاسی مفادات یا داخلی کشمکش اس قومی ایجنڈے پر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمان کو اس موضوع پر متفقہ اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو داخلی تقسیم کا فائدہ نہ مل سکے۔

بلوچستان کی خصوصی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے عوام کو ترقیاتی منصوبوں میں حقیقی شراکت داری دینا، مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا، اور سیاسی عمل کو مضبوط بنانا دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اگر عوام خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں گے تو بیرونی ایجنڈے کے لیے جگہ تنگ ہو جائے گی۔ احساسِ شمولیت دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔

خطے کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پراکسی جنگیں کبھی یک طرفہ نہیں رہتیں۔ آج اگر کوئی ملک دوسرے کے خلاف پراکسی استعمال کرتا ہے تو کل وہی ہتھیار اس کے اپنے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی طاقتوں کو اس خطرناک کھیل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جنوبی ایشیا کو اسلحے کی دوڑ نہیں، معاشی تعاون اور انسانی ترقی کی دوڑ درکار ہے۔

اگر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات محض سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور گھروں تک پھیل جائیں گے۔ خوف کا ایسا ماحول جنم لے گا جس میں تخلیقی سوچ، معاشی سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی دم توڑ دے گی۔ سرمایہ کاری رک جائے گی، ہنر مند افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، اور ریاستی وسائل کا بڑا حصہ ترقی کے بجائے سیکیورٹی پر صرف ہوتا رہے گا۔اس کے برعکس اگر ریاست دانشمندی، مستقل مزاجی اور جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو یہ بحران ایک موقع بھی بن سکتا ہے۔ داخلی اصلاحات، علاقائی سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ پالیسی میں ابہام نہ ہو، ترجیحات واضح ہوں اور عملدرآمد میں تاخیر نہ کی جائے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان داخلی استحکام کو اولین ترجیح دے، سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرے، اور خطے میں امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کو آگے بڑھائے۔ پراکسی جنگوں کا انجام کبھی  فریقین کے حق میں نہیں ہوتا، وہ پورے خطے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اگر آج دانشمندی، جرات اور بصیرت سے کام نہ لیا گیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔ دہشت گردی کے خلاف یہ معرکہ صرف بندوق کا نہیں، بیانیے، معیشت، انصاف اور قومی یکجہتی کا بھی ہے اور اسی ہمہ جہتی حکمت عملی میں پاکستان اور پورے خطے کا محفوظ اور مستحکم مستقبل مضمر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کے خلاف تک محدود نہیں کہ دہشت گردی دہشت گردی کا پراکسی جنگ نہیں رہی سکتا ہے کے ساتھ کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار