نائیجیریا : سیسے کی کان میں دھماکے سے 38افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) نائیجیریا میں سیسے کی کان میں گیس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 38 کان کن ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لوکل گورنمنٹ ایریا کی زرک کمیونٹی میں پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کان میں ایک نجی کمپنی کی زیرِ نگرانی کام ہورہا تھا جہاں زیادہ تر مزدور زیرِ زمین سرنگوں میں مصروفِ عمل تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیرِ زمین سرنگوں میں زہریلی گیسوں بالخصوص کاربن مانو آکسائیڈ کے جمع ہونے سے دھماکا ہوا جو عین کام کے دوران پیش آیا۔ مقامی قبائلی رہنماؤں نے واقعے کو تباہ کن قرار دیا۔ قائم مقام ضلعی سربراہ علیو ادامو ادریس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں جن کی عمریں 20 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ برادری کے لیے سیاہ دن ہے جس نے درجنوں خاندانوں کو سوگوار کر دیا۔ریاستی پولیس کے ترجمان الفریڈ الابو نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں کو جائے وقوع پر تعینات کرکے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔