بھارت: جادو ٹونے کے الزام میں خاتون اور بچے کو زندہ جلادیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں خاتون کو جادو کرنے کے الزام میں ایک سال کے بچے سمیت زندہ جلا دیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کے مغربی ضلع سنگھ بھوم میں ایک 32 سالہ خاتون اور اس کے بچے کو مبینہ طور پر ڈائن قرار دینے کے بعد آگ لگا دی گئی۔پولیس نے بتایا کہ کمار ڈنگی پولیس اسٹیشن علاقے کے ایک گاؤں میں رات دیر گئے متاثرہ خاتون کے گھر کے باہر لوگ جمع ہوگئے اور چیخ وپکار کرنے لگے۔پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کے شوہر نے جب گھر سے باہر نکل کردیکھا تو لوگوں نے حملہ کردیا اور خاتون اور اس کے ایک سالہ بچے پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگادی، حملے میں خاتون کا شوہر بھی زخمی ہوا تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور پولیس سے واقعے کی شکایت کی۔پولیس کے مطابق آگ لگنے کی وجہ سے خاتون اور بچہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔پولیس نے بتایا کہ خاتون پر جادو کرنے کا الزام لگایا گیا تھا جس کی تحقیقات کی جارہی ہے تاہم شوہر کی شکایت پر 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خاتون اور
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔