Jasarat News:
2026-07-24@04:17:25 GMT

کیلیفورنیا : برفانی تودہ گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 9ہوگئی

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست کیلیفورنیا میں برفانی تودہ گرنے کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 9ہوگئی۔ حادثہ لیک ٹاہو کے علاقے میں بدھ کے روز پیش آیاتھا۔امریکی میڈیا کے مطابق نیواڈا کاؤنٹی کے شیرف شانن مون نے بتایا کہ سیاح برفانی تودے کی زد میں آ گئے تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے 6 افراد کو بحفاظت نکال لیا جبکہ دیگر متاثرین کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ شمالی کیلیفورنیا کے سی ایرا نیواڈا پہاڑی سلسلے میں پیش آیا، جہاں شدید برفباری اور خراب موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اب بھی برف کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور خراب موسم کے باعث انہیں فوری طور پر نکالنا ممکن نہیں۔واقعے کے بعد علاقے میں مزید 3فٹ برف پڑ چکی ہے، جس سے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ علاقے میں اب بھی برفانی تودہ گرنے کا خطرہ موجود ہے اور غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔اس سانحے کو تقریباً نصف صدی میں امریکا کا سب سے ہلاکت خیز برفانی تودہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حادثہ اتنا اچانک پیش آیا کہ کسی نے برفانی تودہ آتے نہیں دیکھا ۔ مرنے والوں میں 30 سے 55 سال کی عمر کے مرد و خواتین شامل تھیں۔ نیواڈا کاؤنٹی شیرف نے کہا کہ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اتوار کو موسم کی پیش گوئی کے باوجود اس مہم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ اتوار کی صبح سیرا ایوالانچ سینٹر نے ایوالانچ وارننگ بھی جاری کی تھی، جس کا مطلب تھا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑے برفانی تودے گرنے کا امکان ہے۔ کاؤنٹی شیرف کے مطابق متاثرین کی لاشیں ایک دوسرے کے نسبتاً قریب پائی گئیں اور شدید موسمی حالات کے باعث ٹیمیں ابھی تک لاشوں کو پہاڑ سے نیچے منتقل نہیں کر سکیں۔علاقے میں نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت اور تیز آندھی جیسی ہوائیں بھی چلتی رہیں۔معلوم ہوا ہے کہ تمام اسکائرز کے پاس ایسے بیکنز موجود تھے جو ریسکیو ٹیموں کو سگنل بھیج سکتے ہیں اور کم از کم ایک گائیڈ ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے میں کامیاب رہا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ ایوالانچ بیگز پہنے ہوئے تھے یا نہیں۔ یہ پھولنے والے آلات ہوتے ہیں جو اسکائرز کو برف کی سطح کے قریب رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: برفانی تودہ علاقے میں کے باعث

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار