Jasarat News:
2026-07-24@03:36:30 GMT

زکوٰۃ کے چند اہم مسائل (حصہ اول)

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سوال: ایک ہی چیز پر زکوٰۃ ہر سال اور بار بار ادا کرنا کیوں ضروری ہے؟
جواب: عبادات میں سے کچھ زندگی میں صرف ایک بار فرض ہیں، جیسے حج۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’لوگوں پر یہ اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے‘‘ (آل عمران: 97)۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسولؐ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے، اس لیے حج کرو‘‘۔ ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا ہر سال؟ آپ نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’اگر میں ہاں کہہ دوں تو ہر سال فرض ہو جائے گا، لیکن پھر تم ہر سال نہیں کر سکو گے‘‘ (مسلم)۔
لیکن کچھ عبادات وقت اور زمانے کے ساتھ فرض کی گئی ہیں، مثلاً نمازوں کی فرضیت مخصوص اوقات کے ساتھ ہے۔ جب بھی وہ اوقات آئیں گے، نماز فرض ہوگی۔ روزے کی فرضیت ماہِ رمضان کے ساتھ ہے۔ جب بھی رمضان آئے گا، روزہ رکھنا فرض ہوگا۔

اسی طرح زکوٰۃ کی فرضیت اس مال پر ہے جو مالک کے پاس ایک برس تک رہا ہو۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسولؐ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’مال میں اس وقت زکوٰۃ ہے جب اس پر ایک برس گزر جائے‘‘ ( ابن ماجہ)۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کسی مال پر ایک برس گزرے گا، اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
سوال: صاحب نصاب کس کو کہتے ہیں؟ زکوۃ کس شخص پر واجب ہے؟
جواب: مال کی جس مقدار پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے اسے نصاب کہتے ہیں اور جس شخص کے پاس اتنا مال ہو جتنے پر زکوۃ فرض ہوجاتی ہے اسے صاحب نصاب کہا جاتا ہے۔
زکوٰۃ کا نصاب سونے اور چاندی میں متعین کیا گیا ہے:
سونے کا نصاب ۲۰؍ مثقال (ساڑھے سات تولہ) ہے۔ یہ موجودہ دور میں ۸۵؍ گرام کے بقدر ہے۔
چاندی کا نصاب ۲۰۰؍ درہم (ساڑھے باون تولہ) ہے۔ یہ موجودہ دور میں ۵۹۵؍ گرام کے بقدر ہے۔
حدیث میں سونا اور چاندی دونوں کا نصاب بتایا گیا ہے۔ اللہ کے رسولؐ کے زمانے میں ۲۰؍ مثقال سونے کی مالیت ۲۰۰؍ درہم کی مالیت کے بقدر تھی، لیکن آہستہ آہستہ دونوں میں کافی تفاوت ہوگیا ہے۔
نقد رقم کا نصاب متعین کرنے کے لیے علما نے چاندی کے نصاب کو معیار (Standard) مانا ہے۔ یعنی اگر کسی کے پاس اتنی رقم سال بھر تک رہے جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اسے صاحب نصاب مانا جائے گا۔
بعض علما کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں، جب کہ سونا اور چاندی کی قیمتوں میں بہت زیادہ تفاوت ہوگیا ہے اور بہت سے غریب لوگوں کے پاس بھی چاندی کا نصاب پورا ہوجاتا ہے، سونے کے نصاب کو اسٹینڈرڈ بنانا چاہیے۔ ان کی یہ تجویز معقول معلوم ہوتی ہے۔

سوال: زکوۃ کن کن چیزوں پر نکالنا ضروری ہے؟
جواب: زکوٰۃ مال نامی (بڑھنے والے مال) پر فرض کی گئی ہے:
1۔سونا، چاندی اور ان سے بنی ہوئی چیزیں، جیسے زیورات، برتن، سکّے وغیرہ۔
ان چیزوں کو اسلام میں تجارت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے ان پر ہر صورت میں زکوٰۃ لازم ہے، چاہے کوئی ان کے زیورات بنا کر رکھے، یا انھیں ٹکڑوں کی شکل میں محفوظ کرلے۔
2۔نقد رقم، خواہ کرنسی کی شکل میں ہو، یا سرٹیفکٹ، بانڈ وغیرہ کی شکل میں۔

3۔مال تجارت۔
اگر کوئی شخص کسی کارخانے کا مالک ہے تو اس کی ان مصنوعات پر بھی زکوۃ عائد ہوگی جو ابھی فروخت نہیں ہوئی ہیں اور جن کا ابھی اسٹاک موجود ہے۔
اگر کوئی شخص کسی دکان کا مالک ہے تو اس میں موجود تمام اموال تجارت پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
کارخانے میں لگی ہوئی مشینوں اور سامان تیار کرنے والے آلات پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
مکان، زمین، جائیداد اگر تجارتی مقصد سے نہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
کسی شخص کے پاس کئی مکانات ہوں اور انہیں اس نے کرایے پر اٹھا رکھا ہو، یا کچھ دوسری چیزیں ہوں جنھیں کرایے پر چلاتا ہو تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ہاں، اگر بطور کرایہ حاصل ہونے والی رقم، تنہا یا دوسری رقوم کے ساتھ مل کر، نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو زکوٰۃ عائد ہوگی۔
ذاتی استعمال کی چیزوں، مثلاً گاڑی، فرنیچر، برتن، کپڑوں وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
4۔جانور، جو تجارت کی غرض سے پالے گئے ہوں۔ (اونٹ، گائے بھینس اور بکریوں وغیرہ کا الگ الگ نصاب ہے)۔
5۔زمین کی پیداوار، خواہ غلّہ ہو یا پھل، ترکاری وغیرہ۔
اس پر عائد ہونے والی زکوٰۃ کو عُشر یا نصف عُشر کہتے ہیں۔ اگر پیداوار بارش کے پانی سے یا بغیر سینچائی کے ہوئی ہو تو اس پر عُشر (10 فیصد) نکالا جائے گا اور اگر سینچائی کی گئی ہو تو نصف عُشر (20 فیصد) ادا کرنا ہوگا۔

سوال: کیا زکوٰۃ سونا، چاندی، پیسہ، زمین جائیداد کی الگ الگ نکالنا چاہیے؟
جواب: سونا چاندی کا الگ الگ نصاب ہے۔
پیسہ اور زمین جائیداد (اگر تجارت کے لیے ہو) تو اس کی زکوٰۃ نکالنے کے لیے علما نے چاندی کو معیار مانا ہے۔
اگر کسی شخص کے پاس کوئی مال نصاب کو نہ پہنچتا ہو، نصاب سے کم ہو تو بعض علما کے نزدیک اس پر زکوٰۃ نہیں۔
اس سلسلے میں علمائے احناف کا مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ سب کی قیمت نکالی جائے گی۔ اگر ان سب کی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر پہنچ جائے تو اسے صاحب نصاب مانا جائے گا اور اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پر زکو ۃ نہیں ہے کہتے ہیں کا نصاب کے ساتھ نصاب کو جائے گا فرض ہو ہر سال کے پاس

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر