ایچ ای سی نے مصنوعی ذہانت کو اعلیٰ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنا دیا، گائیڈ لائنز جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی مختلف شعبوں میں بھرپور شمولیت کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اے آئی کو باقاعدہ اعلیٰ تعلیمی نصاب کا حصہ بناتے ہوئے اہم ترین ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکومتی زیر نگرانی چلنے والی اور پرائیویٹ سیکٹر سے متعلق جامعات کے سربراہان کے نام جاری مراسلے میں ایچ ای سی نے اے آئی کی نصاب میں شمولیت کے لیے گائیڈ لائن جاری کی ہیں، جس کے بعد ایچ ای سی نے تمام ڈگری پروگراموں میں مصنوعی ذہانت پر لازمی 3 کریڈٹ گھنٹوں کے کورس کی شمولیت کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے ’اے آئی‘ کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات شروع کردیے
مصنوعی ذہانت کورس سال 2026 کے تعلیمی سیشن سے تمام ڈگری پروگرامز میں لازمی طور پر متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایچ ای سی کی جانب سے ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ایچ ای سی کی طرف سے جامعات کو جاری مراسلے کے مطابق ہر انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرام میں مصنوعی ذہانت پر لازمی 3 کریڈٹ آور کا کورس شامل ہوگا، جسے اختیاری مضمون کے طور پر، بین الشعبہ جاتی کورس یا پروگرام میں شامل معاون مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا بچوں کی کردار سازی کے لیے کریکٹر ایجوکیشن کے نئے نصاب کا باضابطہ اجرا
نصاب میں اے آئی کا انضمام محض اضافہ نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ 21ویں صدی کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں مصنوعی ذہانت ایک انقلابی قوت کے طور پر ابھری ہے۔ مصنوعی ذہانت کی تعلیم کو نصاب میں شامل کرکے طلبہ کو اپنی متعلقہ فیلڈز میں ان ٹولز کے مؤثر استعمال کے قابل بنانا ہے۔
ایچ ای سی نے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور تمام سرکاری و نجی جامعات کے سربراہان کو اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اعلیٰ تعلیم ایچ ای سی گائیڈ لائنز مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلی تعلیم ایچ ای سی گائیڈ لائنز مصنوعی ذہانت میں مصنوعی ذہانت ایچ ای سی نے نصاب کا کے لیے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔
اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔