Jasarat News:
2026-07-24@02:22:22 GMT

رمضان میں قرآن کریم سے شغف

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماہ رمضان میں روزوں کا اہتمام، صبح و شام قرآن مجید کی تلاوت اور تراویح میں اس کی آیات سننے کا نظم خاص معمولات میں سے رہا۔ یہ ماہ مبارک ماہ قرآن سے عبارت ہے۔ الحمدللہ اس کے دوران ہر ایک کی کوشش یہی رہی کہ وہ کم سے کم ایک مرتبہ قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرلے۔ اور جو پڑھنا نہ جانتا تھا اس کا یہ جذبہ رہا کہ مکمل قرآن مجید کو سننے کا اہتمام کیا جائے۔ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ اللہ کوئی ہم کلام ہورہا ہے۔ وہ قرآن مجید تو پڑھتا ہے لیکن حقیقت میں اپنے رحیم و کریم آقا سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس لیے اس کی تلاوت کرنا، اس کو سننا اور سنانا اور اس کی تعلیم دینا بڑا افضل کام بتایا گیا۔ اللہ کے خاص بندوں کی پہچان ہوتی ہے کہ ان کا قرآن مجید سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ وہ جوں ہی اسے سنتے ہیں ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے (الانفال:2 اور السجدہ:15)۔ یہ قرآن مجید کا حق ہے کہ اس کے ساتھ ایک بندہ مومن کا ایسا ہی تعلق ہو۔ وہ اس پر غور و فکر کرے (النساء82 اور محمد:24)۔ جب پڑھا جائے تو اسے توجہ اور خاموشی سے سنے (الاعراف:204)۔ اس طرح جو شخص نیک روش اختیار کرے اس کے لیے کامیابی و کامرانی کی بشارت ہے (الاسراء:9)۔ رمضان المبارک میں قرآن کریم سے قائم ہوئے اس تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
ہر دن، دن کا کوئی حصہ تلاوت قرآن مجید کے لیے مخصوص ہو۔ قرآن کریم سے اس قدر گہرا تعلق پیدا ہوجائے کہ جس دن اس کی تلاوت نہ ہو، اس دن ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہونے لگے۔ اگر اس کی آیتوں پر عمل نہ ہو تو دل بے قراری اور بے اطمینانی محسوس کرنے لگے۔

قرآن کریم کی آیات پر غور و فکر اور انھیں یاد کرنے کا اہتمام اس کتاب ہدایت سے تعلق کو مضبوط کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس کے توسط سے ایک شخص نہ صرف قرآن کریم سے بلکہ پوری کائنات سے اپنا تعلق قائم کرلیتا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، جس کام میں مصروف رہتا ہے اور جس چیز پر نگاہ ڈالتا ہے۔ غرض اس کا ہر معاملہ قرآنی فکر و مزاج کے مطابق بن جاتا ہے، گویا وہ ایک چلتا پھرتا قرآن ہے۔
بچوں کا قرآن کریم سے گہرا لگاؤ پیدا کرنے کے لیے خصوصی تربیت کا نظم ہو۔ جنت اور جہنم کے مناظر کو بہتر انداز سے سمجھایا جائے۔ جنت کی نعمتوں کی چاہت اور جہنم کے عذاب سے بچنے کی فکر پیدا کی جائے۔ ان کے عادات واخلاق سے خدائی احکاموں اور قرآنی قصوں کا بڑا گہرا ربط و تعلق قائم ہو۔
بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے والدین کی جانب سے ایک خاص وقت مقرر ہو۔ انھیں زیادہ سے زیادہ قرآن کو یاد کرنے اور اسے سینے میں محفوظ رکھنے کی تلقین ہو۔
دوران تعلیم بچوں کو قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ یا پھر ہائی اسکول کی تعلیم سے قبل ایک یا دو سال تعلیم کو منقطع کرکے قرآن مجید حفظ کرایا جاسکتا ہے۔ اس عرصے کے بعد اسکولی تعلیم جاری رکھنے کی پوری گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔ لیکن یہ دونوں صورتیں حالات، بچے کی ذہانت اور آمادگی پر منحصر ہیں۔
سماعت قرآن کی محفلیں بعد رمضان کے بھی منعقد ہوں۔ جن میں چند آیات کی تلاوت کے ساتھ ان کی تفسیر بیان کرنے کا نظم ہو۔ خواتین کے اندر بھی سماعتِ قرآن کا شوق پیدا کیا جائے اور ان محفلوں میں شریک کیا جائے۔

قرآن سیکھنا اور سکھانا ہر ایک کا محبوب مشغلہ بن جائے۔ خاص کر خواتین کو اپنے پڑو س کی بچیوں کی تعلیم و تربیت کا خصوصی نظم کرنا چاہیے۔ اگر ہر خاتون سالانہ صرف چار پانچ بچیوں ہی کی تعلیم وتربیت کی ذمے داری لے تو ان شاء اللہ یہ معاشرہ، اللہ اور اس کے رسولؐ کا پسندیدہ معاشرہ بن جائے گا۔
قرآن کریم سے گہرا شغف پیدا کرنا اور ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنا اللہ رب العالمین کی توفیق پر منحصر ہے، اس لیے اس کے حضور دعا کرنی چاہیے:
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِیْ لِذِکْرک وَارْزُقْنِیْ طَاعَتَک وَطَاعَۃ رَسُوْلِک وَعَمَلاً بِکِتَابِک (طبرانی)
اے اللہ تو اپنے ذکر کے لیے میرے دل کے کان کھول دے۔ اور مجھے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کی اور اپنی کتاب قرآن مجید پر عمل کی توفیق نصیب فرما۔

محمد عبد اللہ جاوید گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی تلاوت کی تعلیم

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا