رمضان میں قرآن کریم سے شغف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماہ رمضان میں روزوں کا اہتمام، صبح و شام قرآن مجید کی تلاوت اور تراویح میں اس کی آیات سننے کا نظم خاص معمولات میں سے رہا۔ یہ ماہ مبارک ماہ قرآن سے عبارت ہے۔ الحمدللہ اس کے دوران ہر ایک کی کوشش یہی رہی کہ وہ کم سے کم ایک مرتبہ قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرلے۔ اور جو پڑھنا نہ جانتا تھا اس کا یہ جذبہ رہا کہ مکمل قرآن مجید کو سننے کا اہتمام کیا جائے۔ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ اللہ کوئی ہم کلام ہورہا ہے۔ وہ قرآن مجید تو پڑھتا ہے لیکن حقیقت میں اپنے رحیم و کریم آقا سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس لیے اس کی تلاوت کرنا، اس کو سننا اور سنانا اور اس کی تعلیم دینا بڑا افضل کام بتایا گیا۔ اللہ کے خاص بندوں کی پہچان ہوتی ہے کہ ان کا قرآن مجید سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ وہ جوں ہی اسے سنتے ہیں ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے (الانفال:2 اور السجدہ:15)۔ یہ قرآن مجید کا حق ہے کہ اس کے ساتھ ایک بندہ مومن کا ایسا ہی تعلق ہو۔ وہ اس پر غور و فکر کرے (النساء82 اور محمد:24)۔ جب پڑھا جائے تو اسے توجہ اور خاموشی سے سنے (الاعراف:204)۔ اس طرح جو شخص نیک روش اختیار کرے اس کے لیے کامیابی و کامرانی کی بشارت ہے (الاسراء:9)۔ رمضان المبارک میں قرآن کریم سے قائم ہوئے اس تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
ہر دن، دن کا کوئی حصہ تلاوت قرآن مجید کے لیے مخصوص ہو۔ قرآن کریم سے اس قدر گہرا تعلق پیدا ہوجائے کہ جس دن اس کی تلاوت نہ ہو، اس دن ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہونے لگے۔ اگر اس کی آیتوں پر عمل نہ ہو تو دل بے قراری اور بے اطمینانی محسوس کرنے لگے۔
قرآن کریم کی آیات پر غور و فکر اور انھیں یاد کرنے کا اہتمام اس کتاب ہدایت سے تعلق کو مضبوط کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس کے توسط سے ایک شخص نہ صرف قرآن کریم سے بلکہ پوری کائنات سے اپنا تعلق قائم کرلیتا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، جس کام میں مصروف رہتا ہے اور جس چیز پر نگاہ ڈالتا ہے۔ غرض اس کا ہر معاملہ قرآنی فکر و مزاج کے مطابق بن جاتا ہے، گویا وہ ایک چلتا پھرتا قرآن ہے۔
بچوں کا قرآن کریم سے گہرا لگاؤ پیدا کرنے کے لیے خصوصی تربیت کا نظم ہو۔ جنت اور جہنم کے مناظر کو بہتر انداز سے سمجھایا جائے۔ جنت کی نعمتوں کی چاہت اور جہنم کے عذاب سے بچنے کی فکر پیدا کی جائے۔ ان کے عادات واخلاق سے خدائی احکاموں اور قرآنی قصوں کا بڑا گہرا ربط و تعلق قائم ہو۔
بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے والدین کی جانب سے ایک خاص وقت مقرر ہو۔ انھیں زیادہ سے زیادہ قرآن کو یاد کرنے اور اسے سینے میں محفوظ رکھنے کی تلقین ہو۔
دوران تعلیم بچوں کو قرآن مجید حفظ کرنے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ یا پھر ہائی اسکول کی تعلیم سے قبل ایک یا دو سال تعلیم کو منقطع کرکے قرآن مجید حفظ کرایا جاسکتا ہے۔ اس عرصے کے بعد اسکولی تعلیم جاری رکھنے کی پوری گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔ لیکن یہ دونوں صورتیں حالات، بچے کی ذہانت اور آمادگی پر منحصر ہیں۔
سماعت قرآن کی محفلیں بعد رمضان کے بھی منعقد ہوں۔ جن میں چند آیات کی تلاوت کے ساتھ ان کی تفسیر بیان کرنے کا نظم ہو۔ خواتین کے اندر بھی سماعتِ قرآن کا شوق پیدا کیا جائے اور ان محفلوں میں شریک کیا جائے۔
قرآن سیکھنا اور سکھانا ہر ایک کا محبوب مشغلہ بن جائے۔ خاص کر خواتین کو اپنے پڑو س کی بچیوں کی تعلیم و تربیت کا خصوصی نظم کرنا چاہیے۔ اگر ہر خاتون سالانہ صرف چار پانچ بچیوں ہی کی تعلیم وتربیت کی ذمے داری لے تو ان شاء اللہ یہ معاشرہ، اللہ اور اس کے رسولؐ کا پسندیدہ معاشرہ بن جائے گا۔
قرآن کریم سے گہرا شغف پیدا کرنا اور ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنا اللہ رب العالمین کی توفیق پر منحصر ہے، اس لیے اس کے حضور دعا کرنی چاہیے:
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ مَسَامِعَ قَلْبِیْ لِذِکْرک وَارْزُقْنِیْ طَاعَتَک وَطَاعَۃ رَسُوْلِک وَعَمَلاً بِکِتَابِک (طبرانی)
اے اللہ تو اپنے ذکر کے لیے میرے دل کے کان کھول دے۔ اور مجھے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کی اور اپنی کتاب قرآن مجید پر عمل کی توفیق نصیب فرما۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ