تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کیلئے یکساں قانون سازی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال نے کہا کہ مدارس بھی تعلیمی ادارے ہیں انھیں ایک علیحدہ حیثیت میں رکھنے کی وجہ سے ان میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں شمولیت کا حصہ بناتے ہوئے قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت سماجی و سیاسی ڈومین پر ایپکس کمیٹی کی قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کا نواں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزرائے خزانہ، جی بی سے نگران وزیر خزانہ ابرار اسماعیل، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈز، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سیکرٹری پلاننگ، سیکرٹری فنانس، وی سی پائیڈ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کا قیام بہتر گورننس ترقیاتی منصوبوں میں مساوات کے ذریعے انتہا پسندی اور تخریب کاری کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ اجلاس میں اہم فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے لیے یکساں قانون سازی کی جائے۔ احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی قسم کے تعلیمی ادارے خواہ وہ پرائیویٹ اسکول ہوں، مدارس ہوں یا سرکاری تعلیمی ادارے، سب کے لیے ایک یونیورسل قانون ہونا چاہئے تاکہ کسی کو امتیازی سلوک کا شکار ہونے کا احساس نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ مدارس بھی تعلیمی ادارے ہیں انھیں ایک علیحدہ حیثیت میں رکھنے کی وجہ سے ان میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں شمولیت کا حصہ بناتے ہوئے قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ وفاقی وزیر کی ہدایت پر ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجس ایجوکیشن وفاقی اور صوبائی سطح پر مدارس، اسکولز اور تکنیکی اداروں کی رجسٹریشن کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرے گا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ وفاق المدارس کے نمائندگان کا اجلاس بلایا جائے تاکہ اڑان پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں مدارس کو شامل کیا جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کمیٹی کی ہدایت پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام وائس چانسلرز کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ہاسٹلز میں طلبہ کو صوبائی یا لسانی بنیادوں پر ہاسٹل الاٹمنٹ بند کی جائے اور طلبہ میں قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے تمام صوبوں سے سٹوڈنٹس کو ملا کر الاٹمنٹ کی جا رہی ہے۔
کمیٹی نے صوبوں کو ملک میں 20 پسماندہ ترین اضلاع کی تیز ترین ترقی کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کرنے کی ہدایت کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ وفاق صوبوں کو ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہا ہے، اب صوبوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پسماندہ اضلاع کو اولین ترجیح دیں تاکہ انہیں مضبوط اور مستحکم اضلاع میں تبدیل کیا جا سکے۔ ان پسماندہ اضلاع میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہمیں برق رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام صوبے پسماندہ ترین اضلاع میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے کا آئندہ پانچ سالوں کا پلان دو ماہ میں پیش کریں گے۔ کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ اور مقامی قیادت کی سطح پر عوامی رابطہ کو مضبوط کیا جائے تاکہ گورننس میں شراکت داری کے ذریعے عوامی مسائل حل ہو سکیں۔ کمیٹی نے وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو ہدایت دی کہ اقبال کی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں اور جامعات میں اقبال چئیرز مختص کی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلیمی ادارے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔