پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سمندری ممالیہ کے عالمی دن کے موقع پر وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اپنے خصوصی پیغام میں پاکستانی سمندری حدود میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سمندری حیات کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیلیفورنیا کے ساحلوں پر نیلی وہیلز کی خاموشی، نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی
انہوں نے کہا کہ پاکستانی سمندری حدود، خصوصاً بحیرۂ عرب میں وہیل اور ڈولفن کی متنوع اقسام ریکارڈ کی گئی ہیں، جو ملک کے سمندری حیاتیاتی تنوع کی عکاسی کرتی ہیں۔ وزیر بحری امور نے حال ہی میں گوادر ویسٹ بے میں ڈولفنز کے بڑے غول کی موجودگی کو مثبت علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈولفن کی موجودگی ایک صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔
???? Feb 19 | International Whale Day ???? WCS Madagascar protects whales via research & community action in Nosy Be, Antongil & Grand Sud.
— WCS Madagascar (@WCS_Mada) February 19, 2026
محمد جنید انوار چوہدری نے خبردار کیا کہ اوورفشنگ، بائی کیچ اور سمندری آلودگی جیسے عوامل سمندری ممالیہ کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری ممالیہ کے تحفظ کیلئے پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے، جبکہ بحیرۂ عرب میں وہیل کے تحفظ کیلئے بھی مؤثر اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی کے قریب سمندر میں نایاب شارک کی موجودگی کا انکشاف
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ماہی گیروں میں آگاہی مہمات سمندری ممالیہ کے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری حیاتیاتی تنوع کا تحفظ نہ صرف ماحولیاتی بلکہ قومی معیشت سے جڑا اہم معاملہ ہے، کیونکہ کراچی سے گوادر تک ہزاروں ماہی گیروں کا روزگار ایک صحت مند سمندر سے وابستہ ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت سمندری وسائل کے پائیدار استعمال اور سمندری ممالیہ کے تحفظ کیلئے مربوط پالیسی اقدامات جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سمندری ممالیہ کا عالمی دن وہیل اور ڈولفن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سمندری ممالیہ کا عالمی دن سمندری ممالیہ کے کی موجودگی میں وہیل ڈولفن کی انہوں نے کے تحفظ کہا کہ
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر