Jasarat News:
2026-06-02@23:33:45 GMT

تیسری تراویح

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260220-03-3
آج تیسری تراویح میں سورہ آلِ عمران تلاوت کی جائے گی۔ یہ مدنی سورت ہے، اس سورت کا مرکزی مضمون غزوۂ احد ہے، اس کے ساتھ عیسائی وفد ِ نجران کے احوال بھی مذکور ہیں۔ چونکہ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی اس لیے سورت میں غزوۂ بدر کے بعد کے احوال اور کفار ومشرکین سے چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی۔ سورت کے پہلے رکوع میں معانی کے لحاظ سے قرآن مجید کی آیات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک آیات ِمحکمات ہیں جن کے معانی و مفاہیم بالکل واضح ہیں اور ان کا تعلق عمل اور انسانی معاملات سے ہے۔ جبکہ دوسری آیات ِ متشابہات ہیں جن کے کلی طور معانی و مفاہیم کو سمجھنا انسان کے بس میں نہیں، جیسے اللہ کی ذات و صفات، اللہ کا ہاتھ، کان، چہرہ ، عالم برزخ و عالم قبر کے احوال وغیرہ۔ ان کے متعلق انسانی ذہن کی استعداد کے مطابق جتنا علم دیا گیا وہی کافی ہے۔ دوسرے رکوع میں کفار کو مخاطب کرکے تنبیہ کی گئی کہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ تیسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ کی شان اور حکمرانی بیان کرتے ہوئے اسے اللہ کا فضل بتایا کہ وہ جب او ر جس کو چاہتا ہے اقتدار عطاکرتا ہے اور جب چاہے ان سے چھین لیتا ہے۔ پھر ان دونوں کو اللہ کے سامنے اپنے کیے کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ چوتھے رکوع میں اللہ کی محبت کو رسولؐ کی اتباع سے مشروط کیا گیا ہے۔ رسولؐ کی نافرمانی کو بھی کفر قرار دیا گیا۔ اسی رکوع کی آیت 35 سے چھٹے رکوع تک سیّدہ مریم ؑ،سیدنا زکریا و یحییٰ ؑ کا ذکر ہے۔ یہاں نجران کے عیسائی عالموں کو جو جواب دیا گیا بیان کیا جا رہا ہے۔ سیدہ مریم ؑ جب اپنی والدہ کے پیٹ میں تھیں تو ان کی والدہ نے اللہ سے نذر مانی کہ بیٹا ہوتا تو اسے ہیکل کی خدمت کے لیے وقف کردوں گی۔ لیکن جب خلاف توقع انہیں بیٹی ہوئی تو وہ حیران ہوئیں کہ اب کیا کریں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی نذر کو قبول کیا اور ہیکل کے لیے پہلی بار کسی خاتون کی خدمت کو قبول فرمایا۔ یہ حقیقت بیان کرکے سیدہ مریم ؑ کے متعلق عیسائی عقیدے کی نفی کی گئی جس میں وہ نعوذ باللہ انہیں خدا کی ماں قرار دیتے ہیں۔

آگے چل کر سیدنا زکریاؑ کا تذکرہ ہے جو سیّدہ کی خبرگیری کے لیے ان کے اعتکاف والے کمرے آتے تو ان کے پاس اللہ کی ایسی نعمتیں پاتے جو کسی عام انسان کی دسترس میں نہیں ہوسکتی تھیں، اس پر انہوں نے بی بیؑ سے ان نعمتوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ درحقیقت یہ اللہ کی جانب سے ہیں۔ وہیں پر سیدنا زکریاؑ نے اپنی پیرانہ سالی اور ان کی اہلیہ کے دائمی بانجھ پن کے باوجود اللہ سے اولاد کی دعا کی۔ اور اللہ نے انہیں سیدنا یحییٰ ؑکی خوش خبری سنائی۔

اس مضمون سے متصل ہی سیدہ مریم ؑ کے بطن سے سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش کا تفصیلی بیان ہے۔ ان دونوں واقعات سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ان عیسائیوں سے سوال کیا گیا کہ اگر یحییٰ ؑ کی ولادت کو معجزہ مانتے ہو تو پھر محض ان کی ولادت کے چھے ماہ بعد سیدنا عیسیٰؑ کی ولادت کو معجزہ ماننے میں کیوں انکاری ہو؟ حالانکہ دونوں کی پیدائش خلاف معمول ہی ہے۔ یہ بیان کرنے کے بعد ان عیسائیوں کو دعوت دی گئی کہ اگر ا ب بھی تمہیں اپنے عقیدے کی سچائی پر یقین ہے تو لوگوں کے سامنے اللہ سے دعا کرو کہ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو، لیکن انہوں نے ہٹ دھرمی دکھائی اور اس کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس آیت کو آیت ِ مْباہلہ کہتے ہیں۔

ساتویں رکوع سے نویں رکوع تک اہل کتاب کو مشترکات پر آنے کی دعوت دی گئی کہ اصل دین ایک ہی ہے، لیکن تم نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ دسویں رکوع سے بارہویں رکوع تک انفاق کی اہمیت، خانہ کعبہ کی تعمیر، حج ، اہل کتاب کی اطاعت سے بچنے، اتحاد امت مسلمہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مضامین بیان ہوئے ہیں۔ تیرہویں رکوع سے انیسویں رکوع تک مرکزی مضمون غزوۂ احد کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ نبی اکرمؐ کے گھر سے نکلنے، منافقین کی سازشوں اور بعض اہل ایمان کے ضعف کا تذکرہ کیا گیا۔ غزوہ بدر کا تذکرہ کرتے ہوئے سمجھایا گیا کہ ایمان خالص ہو تو بدر کے مثل اللہ کی نصرت ہر جگہ اْتر سکتی ہے۔ دوران غزوۂ احد نبی کریمؐ کی شہادت کی افواہ اور اس پر مسلمانوں کو ثابت قدمی کی تعلیم دی گئی۔ شہداء کے فضائل اور ان سے اللہ کے ہم کلام ہونے کا تذکرہ ہے۔ سورت کے آخری رکوع میں اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں، جن میں ایمان پر استقامت، کائنات کی تخلیق میں غور و فکر اور راہ ِ خدا میں اپنی جان، مال و ہر عزیز متاع کی قربانی کو اللہ کے بے پناہ اجر سے مشروط کیا گیا ہے۔ آخری آیت میں تلقین فرمائی: ’’اے ایمان والو! صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلے میں پامردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اْمید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے‘‘۔

عابد علی جوکھیو سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رکوع میں کا تذکرہ رکوع تک کیا گیا اللہ سے اللہ کی کے لیے اور ان

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر