عماد اپنے بچوں سے دوبارہ ملیں گے تو کھلے دل سے قبول کروں گی، نائلہ راجہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
قومی کرکٹر عماد وسیم سے شادی کرنے والی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ نے کہا ہے کہ اگر عماد کبھی اپنے بچوں سے دوبارہ ملتے ہیں تو وہ انہیں کھلے دل سے قبول کریں گی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے 16 فروری کو نائلہ راجہ کے ساتھ شادی کی تصدیق کی تھی۔
عماد وسیم نے سماجی رابطے کی سائٹ انسٹاگرام پر اپنی ماضی کی زندگی، بچوں اور دوسری شادی سے متعلق تفصیلی پوسٹ کی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اُس رشتے کو بہتر اور حالات ٹھیک کرنے کی کوشش میں ضرورت سے زیادہ عرصے تک رہا مگر کامیاب نہ ہوسکا، اس دوران کچھ فیصلوں میں تاخیر اور غلطیاں بھی ہوئیں۔
بعد ازاں، کرکٹر کی پہلی اہلیہ ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2023 میں عماد نے لاہور میں میرے بچے کا اسقاط حمل کروا دیا تھا۔
ثانیہ نے کہا کہ یہ قاتل ہے اس نے مجھے دھوکا دیا اور میرے پاس اس کا ویڈیو ثبوت ہے، جب کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے ایک قاتل اور دھوکے باز کو موقع دیا ہے اسلام آباد یونائیٹڈ کا بائیکاٹ کیا جائے کسی بھی قاتل اور دھوکے باز کو فرار نہیں ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ نائلہ راجہ کا نام کرکٹر عماد وسیم کے ساتھ مبینہ تعلقات کی خبروں کی وجہ سے وائرل ہوا، اُس وقت دونوں نے ان افواہوں کی تردید کی تھی کیونکہ عماد کی پہلی اہلیہ ثانیہ اشفاق نے انہی دنوں تیسرے بچے کو جنم دیا تھا۔
جس پر عماد وسیم کی پہلی اہلیہ ثانیہ نے کھل کر اپنے شوہر کے مبینہ تعلق کے بارے میں بات کی اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی پیدائش پر بھی نہیں گئے تھے۔
عماد وسیم اور نائلہ راجہ کی شادی کے بعد ثانیہ اشفاق کا نیا دعویٰ سامنے آگیا
عماد وسیم اور نائلہ راجہ کی شادی نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی
بعد میں نائلہ نے بھی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے عماد کے ساتھ تصاویر کو صرف ’فین مومنٹ‘ قرار دیا تھا اور اب یہی فین مومنٹ شادی کی تصاویر میں بدل گیا ہے۔
اب سوشل میڈیا انفلوئنسرنائلہ راجہ نے بھی عماد وسیم سے شادی کرنے پر خاموشی توڑ دی۔
سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اگر عماد کبھی اپنے بچوں سے دوبارہ ملتے ہیں تو وہ انہیں کھلے دل سے قبول کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہی ان کی سچائی ہے اور ماضی میں ہونے والی تنقید کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔
انٹرنیٹ صارفین نے نائلہ کی وضاحت پر مختلف ردعمل دیا۔
ایک صارف نے لکھا ’یہ کہنے کے لیے بھی ہمت چاہیے، خود کو مظلوم کیوں ظاہر کر رہی ہو‘۔
ایک اور نے کہا کہ جو آدمی اپنے بچوں کو چھوڑ سکتا ہے وہ تمہارے ساتھ بھی ایسا کرسکتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نائلہ راجہ سوشل میڈیا اپنے بچوں نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔