جنگ نہیں چاہتے لیکن حملہ ہوا تو دشمن کے اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران کا دوٹوک پیغام
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف کسی قسم کی امریکی جارحیت کی گئی تو وہ اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ممکنہ فوجی کارروائی کے حقیقی خطرے کی عکاسی کرتے ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ ایران جنگ یا کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع میں سخت اور مؤثر اقدام کرے گا۔ ایرانی مشن نے واضح کیا کہ کسی بھی عسکری کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈے، تنصیبات اور دیگر اثاثے جائز ہدف سمجھے جائیں گے۔
خط میں امریکی صدر کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا ڈیگو گارشیا اور RAF فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈز استعمال کر سکتا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ایران نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔