data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا غزہ کے عوام کے لیے روشن اور مستحکم مستقبل چاہتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔

غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے مختلف ممالک پہلے ہی سات ارب ڈالر سے زائد فنڈ فراہم کر چکے ہیں اور امریکا اضافی دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کرتا ہے، عالمی فٹبال تنظیم فیفا بھی غزہ منصوبوں کے لیے پچہتر ملین ڈالر جمع کرنے میں معاونت کرے گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ مقصد ایسا غزہ دیکھنا ہے جہاں مؤثر حکمرانی ہو اور وہ انتہاپسندی یا دہشت گردی کا مرکز نہ رہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حماس ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امن کا راستہ مذاکرات اور بین الاقوامی شراکت سے ہی نکلے گا۔

امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وہ جلد اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس سے رابطہ کریں گے تاکہ عالمی ادارے کے کردار کو مؤثر بنایا جا سکے، اقوام متحدہ غزہ کے لیے دو ارب ڈالر کی امداد جمع کر رہی ہے اور چین اور روس بھی اس عمل میں شامل ہوں گے، اگرچہ اجلاس میں سلامتی کونسل کے بعض مستقل ارکان بشمول برطانیہ شریک نہیں تھے۔

ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امریکا بامعنی معاہدہ چاہتا ہے، اسے کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے، آئندہ دس دنوں میں ایران سے متعلق صورتحال واضح ہو جائے گی اور تہران کو امن کے راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ دنیا میں کئی جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور تنازع کے خاتمے کے قریب ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران انہوں نے کردار ادا کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ نہ رکی تو سخت معاشی اقدامات کیے جائیں گے۔

اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ غزہ امن بورڈ ایک منفرد عالمی فورم ہے جس کا کوئی متبادل نہیں اور اس کا مقصد صرف ایک ہے: خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنانا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی