WE News:
2026-07-24@03:36:25 GMT

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے جیل میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کے تحت ’عمران خان رہائی فورس‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عمران خان کی رہائی تک سرگرم رہے گی۔

وزیر اعلیٰ نے یہ خصوصی فورس بنانے کا اعلان اسلام آباد میں اُس وقت کیا جب اپوزیشن اتحاد کی جانب سے عمران خان کے بہتر علاج کے لیے دھرنا دیا گیا تھا۔ اس دوران کارکنان نے خیبر پختونخوا کے تمام داخلی اور خارجی راستے احتجاجی دھرنوں کے ذریعے بند کر دیے تھے، تاہم اس کے کوئی خاص نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

ملک بھر کے نوجوانوں پر مشتمل فورس

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق ’عمران خان رہائی فورس‘ کے لیے ملک بھر میں نوجوانوں کی رکنیت کی جائے گی، جس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، ویمن ونگ، مائنارٹی ونگ، پروفیشنلز بلکہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہو سکیں گے۔ یہ فورس پرامن جدوجہد کرے گی اور عمران خان کی رہائی کے لیے فعال رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فورس کے ارکان کے لیے ممبرشپ کارڈز جاری کیے جائیں گے، جبکہ عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے باضابطہ حلف لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس تحریک کے لیے ایک مضبوط چین آف کمانڈ تشکیل دی جائے گی اور ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے موصول ہوگی۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ نے بتایا کہ اس فورس میں ہر وہ شخص شامل ہو سکتا ہے جو عمران خان کی رہائی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق رہائی فورس ملک بھر میں اسٹریٹ مومنٹم پیدا کرے گی اور لوگوں کو پرامن احتجاج کے لیے تیار کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ فورس عمران خان کی ہدایات پر عمل کرے گی اور یہ پارٹی کی تمام ذیلی تنظیموں سے بالاتر ہوگی۔ ’اس میں یوتھ، مرد، خواتین اور اقلیتی ونگ کے افراد شامل ہوں گے اور سب کا ایک ہی مقصد ہوگا: خان کی رہائی۔‘

اکرام کٹھانہ کے مطابق فورس کی تیاری شروع ہو چکی ہے اور ممبرشپ کارڈز بھی چند دن میں تیار ہو جائیں گے، جبکہ حلف برداری کے بعد یہ فورس باقاعدہ طور پر فعال ہو جائے گی۔

وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں عمران خان رہائی فورس کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ چند روز میں باقاعدہ ممبرشپ کارڈز تیار ہو جائیں گے، تاہم پارٹی کے کئی افراد اس حوالے سے بے خبر نظر آتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ ممکن ہے سہیل آفریدی نے باقاعدہ مشاورت کے بغیر ہی فورس بنانے کا اعلان کیا ہو، جو ان کی حالیہ اسٹریٹ مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک پارٹی کو اس حوالے سے کوئی واضح ہدایات موصول نہیں ہوئیں کہ طریقۂ کار کیا ہوگا، ایک صوبے میں کتنے افراد شامل ہوں گے اور کمانڈ کس کے پاس ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے عمران خان رہائی فورس ٹائیگر فورس کی طرز پر ہوگی، جو آگاہی مہم میں فعال کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس فورس میں شامل ہونے کے لیے اپلائی کرنے کا بھی کوئی واضح طریقۂ کار سامنے نہیں آیا۔

’میں خود بھی اس فورس کا حصہ بننا چاہتا ہوں، لیکن کس طرح بنوں گا، یہ ابھی واضح نہیں۔‘

پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی کو سونپی گئی ہے اور یہ فورس بھی اسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہے۔ ان کے مطابق فورس کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن ہوگی اور خواہشمند کارکن اس کا حصہ بن سکیں گے، جنہیں ممبرشپ کارڈ جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس فورس کی ذمہ داری احتجاج، جلسے جلوس کے انعقاد اور ممکنہ احتجاجی تحریک کے لیے تیاری اور اسٹریٹ مہم چلانا ہوگی۔

عمران خان کی رہائی کے لیے نئی فورس کس قدر کارآمد ہوگی؟

پی ٹی آئی میں سہیل آفریدی کے قریبی حلقے اس نئی فورس کے اعلان پر خوش ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اسٹریٹ مہم کو تیز کیا جائے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فورس کا اعلان بنیادی طور پر کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

صحافی عارف حیات، جن کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رہتی ہے، کے مطابق سہیل آفریدی کارکنوں کو انگیج رکھنا چاہتے ہیں اور اس فورس کے قیام کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے مطابق اگر عمران خان احتجاج اور جلسوں کے ذریعے باہر آ سکتے تو کب کے باہر آ چکے ہوتے۔

’علی امین گنڈاپور بڑے قافلے کے ساتھ ایک نہیں بلکہ کئی بار اسلام آباد گئے، نتیجہ کیا نکلا، وہ سب کے سامنے ہے۔‘

عارف حیات کے مطابق اس فورس سے کارکن وقتی طور پر سرگرم ہوں گے، سہیل آفریدی پر اعتماد رکھیں گے اور وقتاً فوقتاً جلسے جلوس اور نعرے بازی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فورس بنانا پی ٹی آئی کی روایت ہے اور عمران خان نے بھی کورونا کے دوران ٹائیگر فورس کے نام سے رضاکار فورس بنائی تھی، جس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بھی بخوبی علم ہے کہ عمران خان کس طرح باہر آ سکتے ہیں اور اس راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران پشاور کے فضل الٰہی نامی رکن صوبائی اسمبلی ’گل خان فورس‘ کے ساتھ ڈنڈے لے کر اسلام آباد گئے تھے، لیکن شیلنگ اور لاٹھی چارج کے دوران وہ غائب ہو گئے تھے۔ ’عمران خان رہائی فورس‘ اس فورس کا انجام بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمران خان رہائی فورس وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان رہائی فورس وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے لیے عمران خان رہائی فورس خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ان کے مطابق نے بتایا کہ اسلام آباد وزیر اعلی پی ٹی آئی انہوں نے کا اعلان فورس کے اس فورس شامل ہو کہا کہ گی اور کے بعد کرے گی

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن