Jasarat News:
2026-06-02@23:38:30 GMT

عمران خان رہائی فورس؟؟؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صوبہ خیبر کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ عوامی تحریک کی تیاری کے لیے ’’عمران خاں رہائی فورس‘‘ قائم کی جا رہی ہے جس کے لیے ملک بھر میں نوجوانوں کی رکنیت سازی کی جائے گی اور عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے باضابطہ حلف لیا جائے گا۔ اس تحریک کے لیے ایک مضبوط چین آف کمانڈ تشکیل دی جائے گی، عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اب ایک منظم اور پر امن عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، پہلے تیاری کریں گے پھر لڑائی کریں گے، ان شاء اللہ اس میں جیت حق اور سچ کی ہو گی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیس کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان رہائی فورس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، ویمن ونگ، اقلیتی ونگ، پروفیشنلز اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا، رہائی فورس مکمل طور پر پر امن جدوجہد کرے گی اور رہائی کے بعد اس فورس کو خود عمران خان تحلیل کریںگے۔ ممبر شپ کارڈز چار سے پانچ دن میں تیار ہو جائیں گے، ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے موصول ہو گی، احتجاج اور مذاکرات کی ذمے داری عمران خان نے علامہ راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو سونپی ہے اور یہ ان کا فیصلہ تھا کہ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دیا جائے، جس پر تمام قیادت نے لبیک کہا، مجھے عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمے داری دی گئی ہے۔ پورے پاکستان میں تیاری جاری ہے اور لوگ متحرک ہو رہے ہیں۔ آئینی، قانونی اور جمہوری تمام راستے اختیار کرنے کے باوجود عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ بہترین تیاری کے بعد ہی موثر کال دی جائے گی۔ یہ لڑائی حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت اور آزاد میڈیا کی بحالی کی جدوجہد ہے، اور ان شاء اللہ اس میں جیت حق کی ہو گی۔ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات آنے پر ہم عدالتوں کے احترام میں ایک قدم پیچھے ہٹے، کیونکہ عمران خان نے ہمیں اداروں کا احترام کرنا سکھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، منصب سے نہیں۔ اگر عزت انسانوں کے ہاتھ میں ہوتی تو عمران خان قوم کے دلوں کی دھڑکن نہ ہوتے۔وزیر اعلیٰ صوبہ خیبر محمد سہیل آفریدی کے اس جارحانہ اعلان کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے۔ دھمکی دی ہے کہ اگر اسٹریٹ موومنٹ جیسی باتیں کی جائیں گی تو عمران خاں سے رمضان میں ملاقاتیں بھی بند ہو جائیں گی۔ سہیل آفریدی احمقانہ بات کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کے خلاف سازش ہو رہی ہے یا یہ خود تحریک کے بانی کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ عمران خاں خود رہا نہیں ہونا چاہتے، ملاقاتوں کو سیاست، گالم گلوچ کے لیے استعمال نہ کریں تو کون روکتا ہے؟ بانی پی ٹی آئی ایک دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہتے وہاں ان کا دل نہیں لگ رہا۔ان کی لیونگ کنڈیشن جیل میں اے ون ہے، ان کا علاج بھی بہترین ہوا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو پہیہ جام کی کال دی اس کے لیے ان کی کیا تیاری تھی؟ جس طرح کے انہوں نے دھرنے دیے اس سے بہتر تھا نہ دیتے ۔ پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ ڈی چوک کے بجائے سنگجانی چلے جائیں آپ سے بات ہو گی، یہ سنجیدہ کوشش تھی لیکن تحریک انصاف یا شاید بانی پی ٹی آئی نے انکار کیا۔ ان کو ایک طرف سے فیڈ کیا جا رہا تھا کہ بس انقلاب آنے کو تیار ہے، محسن نقوی ان کے ساتھ براہ راست گفتگو میں شامل تھے کہ ڈی چوک نہ جائیں، بانی پی ٹی آئی پہلے اس بات پر رضا مند ہوئے پھر اس بات سے پیچھے ہٹ گئے۔پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے اعلان پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’’رہائی فورس‘‘ کے ذریعے اڈیالہ جیل پر چڑھائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت کے شعبہ تعلقات عامہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے عمران خاں کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرنے والے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے استفسار کیا کہ جب سیاسی مخالفین کی بیماریوں کا تمسخر اڑایا جا رہا تھا انسانی حقوق کے چمپئن بننے والے مختلف ممالک کے کپتان کہاں تھے، مگر آج ایک آنکھ کے معاملے پر دنیا بھر میں شور مچایا جا رہا ہے، پی ٹی آئی والے اب این آر او لینے کے لیے مختلف حیلے بہانے کر رہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا، آج وہ خود ریلیف کے متلاشی ہیں۔ جیل سے جب بھی کوئی پیغام آتا ہے تو وہ فساد، فتنہ اور ریاست سے ٹکرائو کا ہی آتا ہے۔ 73 سال کی عمر میں 6/6 اور 9/6 نظر چند لوگوں کی ہوتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، دن میں دو مرتبہ طبی معائنہ ہوتا ہے، اچھی خوراک، واک اور جم کی سہولت میسر ہے۔ ان کی صحت کے حوالے سے نہ کبھی غفلت برتی گئی اور نہ برتی جائے گی۔ حکومت اپنی ذمے داری پوری کر رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہ گھر پر بیٹھ کر زہر دیے جانے کی کہانیاں سناتے تھے، پھر جیل میں جان کو خطرے کا بیانیہ شروع ہو گیا۔ یہ سب محض سیاسی ڈرامے ہے۔ جھوٹا پروپیگنڈا ان کی اپنی میڈیکل رپورٹوں نے بے نقاب کر دیا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں 13 سال حکومت کرنے والوں نے سڑکیں بند کر کے صرف عوام کو اذیت دی۔ ایمبولینسوں میں لوگ تڑپتے رہے، عدالت کو مداخلت کر کے راستے کھلوانا پڑے۔ اگر واقعی کوئی قانونی راستہ بنتا ہے تو حکومت قانون کے مطابق سہولت دینے سے گریز نہیں کرے گی، لیکن انتشار، انارکی اور ریاست کے خلاف بیانیہ ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی قیدی کو اتنی سہولتیں ملی ہوں جتنی انہیں حاصل ہیں۔محترم سہیل آفریدی ایک صوبے کے اہم ترین منصب پر فائز ہیں ان کا ہر اقدام ذمے دارانہ ہونا چاہئے۔ جذباتیت پر مبنی باتیں اور اعلانات کسی طرح بھی ان کے منصب کے شایان شان نہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کا قانون کسی بھی قسم کی ’’سپاہ‘‘ یا ’’فورس‘‘ وغیرہ کی تشکیل کی اجازت نہیں دیتا کہ وطن عزیز پہلے ہی دہشت گردی اور تخریب کاری کی لپیٹ میں ہے اور ’’عمران خاں رہائی فورس‘‘قسم کی تنظیمیں معاشرے میں تشدد کا راستہ کھولتی اور لاقانونیت کے فروغ کا باعث بنتی ہیں اس لیے قانون میں ایسی تشدد آمیز فورس وغیرہ کو منظم کرنے پر پابندی عائد ہے اور پھر جناب سہیل آفریدی نے عید کے بعد ’’فورس‘‘ کے نوجوانوں سے پشاور میں باقاعدہ اور باضابطہ حلف لینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ہمارا وزیر اعلیٰ صاحب کو مشورہ ہو گا کہ وہ اپنی اس مجوزہ فورس کے ضمن میں مزید کسی پیش رفت سے قبل آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت ضرور کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے بہر صورت گریز کیا جائے آئین و قانون جس کی اجازت نہ دیتے ہوں اور جس کا نتیجہ ملک میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا ہو!!

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی رہائی فورس کرتے ہوئے وزیر اعلی جائے گی رہے ہیں جا رہا کیا جا کے لیے رہی ہے کے بعد ہے اور تھا کہ

پڑھیں:

حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan)  نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔

راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا