ہم ایران کیساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دیتے رہیں گے، روس
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں ڈیمٹری پسکوف کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ایران کے بحران کو عسکریت کی بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے ساتھ بحری مشقوں کے حوالے سے روس کے صدارتی ترجمان "ڈیمٹری پسکوف" نے کہا کہ مشقوں کا یہ منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ روس، ایران کے ساتھ اسی طرح اپنے تعلقات کو مزید وسعت دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاقائی کشیدگی میں بے انتہاء اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ ایران کے گرد موجودہ صورت حال کے حوالے سے ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ڈیمٹری پسکوف نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے بحران کو عسکریت کی بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ دوسری جانب گزشتہ شب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان "ماریہ زاخارووا" نے کہا کہ ماسکو کو امید ہے کہ خطے کو تباہ کن نتائج کے ساتھ کسی نئی فوجی محاذ آرائی کی جانب نہیں گھسیٹا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار، ایران پر ممکنہ حملے کی امریکی دھمکیوں اور خطے میں واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی کے تناظر میں کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ دھمکیاں اور بلیک میلنگ، ظاہری طور پر مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔