حج 2026: مثالی انتظامات یقینی بنائے جائیں، عازمین کی تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
سردار محمد یوسف کی زیر صدارت حج انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ حج کے انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی سیکرiٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان، ڈی جی حج عبدالوھاب سومرو اور حج ونگ کے افسران نے بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر مذہبی امور نے ہدایت کی کہ حجاج کرام کے لیے پاکستان اور سعودی عرب میں مثالی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حجاج کرام اور خدام الحجاج اپنے مثبت طرزِ عمل سے ملکی وقار میں اضافہ کریں اور خدمتِ حجاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
مزید پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کے لیے بائیو میٹرک کی ڈیڈ لائن دیدی
اجلاس کو بتایا گیا کہ عازمینِ حج اور خدام الحجاج کی لازمی تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ ملک کے 107 شہروں میں 183 تربیتی ورکشاپس کے ذریعے عازمین کو مناسکِ حج اور انتظامی امور سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت حج انتظامات کا جائزہ اجلاس
وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان، ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو، حج ونگ افسران کی بریفنگ
حجاج کرام کے لیے پاکستان اور سعودی عرب میں مثالی انتظامات کیے جائیں: سردار محمد یوسف@AmirSaeedAbbasi pic.
— Media Talk (@mediatalk922) February 19, 2026
وفاقی سیکرiٹری مذہبی امور نے بتایا کہ ایک روزہ حج تربیت کا دوسرا مرحلہ عیدالفطر کے فوری بعد شروع کیا جائے گا۔ امسال عازمینِ حج کو ویکسین کی فراہمی، فضائی ٹکٹوں اور ویزوں کے اجرا کا عمل بھی جلد شروع کردیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: عازمین حج کو معیاری سہولیات فراہم کی جائیں گی، وزیر مذہبی امور سردار یوسف، خدام الحجاج میں سرٹیفکیٹس تقسیم
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عازمین حج کی رہائش گاہوں، ٹرانسپورٹ، منیٰ کے خیموں اور خوراک کے انتظامات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش گاہیں گزشتہ سال کی نسبت بہتر حاصل کی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ منیٰ، عرفات کے مکاتب اور مشاعر کے انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں اور حجاج کرام کو قدم بہ قدم سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔