اسرائیلی پولیس نے رمضان سے قبل مسجد اقصیٰ کے امام کو گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
مقبوضہ بیت المقدس میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے گرد سکیورٹی اقدامات میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے مسجد کے امام شیخ محمد العباسی کو حراست میں لے لیا، جس پر فلسطینی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب عبادات کی ادائیگی کے لیے آنے والے نمازیوں پر پہلے ہی مختلف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق پیر کی شام اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں کارروائی کرتے ہوئے امام مسجد کو حراست میں لیا، تاہم گرفتاری کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے اچانک کارروائی کی اور شیخ محمد العباسی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے رمضان کے پیش نظر مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں سخت سکیورٹی انتظامات نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ نمازیوں کی آمد و رفت پر بھی نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ بعض مذہبی شخصیات کے خلاف محدود مدت کے لیے مسجد میں داخلے پر پابندی کے احکامات جاری کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے فلسطینی قیادت مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دے رہی ہے۔
فلسطینی تنظیم حماس نے امام مسجد کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ شیخ محمد العباسی کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کے احکامات دراصل مقدس مقام کے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت ہیں، جو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا مؤقف ہے کہ رمضان کے دوران کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے اطراف سکیورٹی سخت کی جا رہی ہے۔ تاہم فلسطینی حکام نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر نمازیوں کی رسائی محدود کر کے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہا ہے اور حالات کو کشیدہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور مشرقی یروشلم میں واقع ہے، جس پر 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ طے شدہ انتظامات کے تحت یہودی زائرین کو احاطے میں داخلے کی اجازت تو حاصل ہے، تاہم وہاں عبادت کی اجازت نہیں، مگر اس کے باوجود وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات سامنے آتے رہتے ہیں جو علاقے میں شدید تناؤ کا سبب بنتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔