غزہ میں کون کون سے ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتایا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں ہوا جس میں امریکی صدر نے غزہ میں مختلف ممالک کی فورسز کی تعیناتی کی تفصیلات بھی بتائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب میں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کے غزہ میں جلد غیرمسلح ہونے کا امکان ظاہر کیا وہیں حماس کے بعد تعینات ہونے والی غیرملکی فورسز سے متعلق معلومات بھی دیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان غزہ میں سیکیورٹی کے لیے قائم کی گئی عالمی استحکامی فورس کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس بھیجیں گے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی استحکامی فورس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنے والے ان ممالک کا نام لے کر شکریہ بھی ادا کیا اور ان کے تعاون کو سراہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے جب کہ مصر اور اردن بھی اس عمل میں انتہائی اہم تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مصر اور اردن ایک قابلِ اعتماد فلسطینی پولیس فورس کے قیام کے لیے فوج، تربیت اور مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
اس بین الاقوامی فورس کے اہلکار کی تعداد 18 سے 22 ہزار تک ہوسکتی ہے جس میں بیرون ملک کے دس سے بارہ ہزار اہلکار ہوں گے۔
سب سے زیادہ اہلکار بھیجنے کا وعدہ انڈونیشیا نے کیا ہے جس کی تعداد ڈھائی ہزار سے 2 ہزار تک ہوسکتی ہے۔
مراکش بھی 1500 سے 2 ہزار ، قازغستان 1200 سے 1500، البانیہ 700 سے ایک ہزار جب کہ کوسوو 600 سے 800 اہلکار بھیجے گا۔
مصر اور اردن کے اہلکار بھی غزہ میں تعینات ہوں گے تاہم ان کا مقصد صرف نگرانی اور تربیت دینا ہوگی۔
خیال رہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی استحکامی فورس میں شامل ہونے کے خواہش مند ممالک نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ ان کے دستے محدود نوعیت کے امن مشنز انجام دیں گے، جن میں سرحدی نگرانی، امدادی قافلوں کا تحفظ اور حساس تنصیبات کی حفاظت شامل ہیں۔
امریکی حکام کے بقول ان ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے آپریشنز میں حصہ نہیں لینا چاہتے جن میں حماس یا دیگر مزاحمت پسند گروہوں سے براہِ راست لڑائی اور اسلحہ ضبط کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔