نامور فلم ساز گھر میں مردہ پائے گئے، لاش کئی روز تک پڑی رہنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سینئر بھارتی فلم ساز ایم ایم بیگ اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے۔ وہ معروف چائلڈ آرٹسٹ بیبی گڈو کے والد تھے اور متعدد ہندی فلموں سے وابستہ رہے۔
ان کے پبلسِسٹ حنیف زویری کے مطابق ایم ایم بیگ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ چار سے پانچ روز تک گھر سے باہر نہ نکلنے اور مکان سے بدبو آنے پر پڑوسیوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے دروازہ کھول کر اندر سے ان کی لاش برآمد کی اور اہلِ خانہ کو مطلع کیا۔ بعد ازاں میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کی عمر ستر برس سے زائد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: 2 مہینے میں 33 الیکشن اہلکاروں کی خودکشیاں اور اموات، وجہ کیا ہے؟
ایم ایم بیگ نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بطور اسسٹنٹ ہدایتکار کیا اور جے اوم پرکاش، وِمل کمار اور راکیش روشن کے ساتھ کام کیا۔ اور ’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘، ’آدمی کھلونا ہے‘ اور ’قرض چکانا ہے‘ سمیت مخلتف فلمی منصوبوں سے منسلک رہے۔
بطور خودمختار ہدایتکار انہوں نے دو فلمیں بنائیں جن میں نصیرالدین شاہ کی فلم ’معصوم گواہ‘ شامل ہے جو دیلیز نہ ہو سکی اور دوسری فلم ’چھوٹی بہو‘ تھی جس میں شلپا شیروڈکر نے مرکزی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جوہری تجربات: 4 کروڑ نہیں، 40 لاکھ اموات کی خاموش تاریخ
حنیف زویری کا کہنا ہے کہ بیگ کے راکیش روشن کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے اور انہوں نے ریتھک روشن کی پہلی فلم ’کہو نا پیار ہے‘ کے لیے ان کی ابتدائی فنی تربیت میں بھی معاونت کی تھی خاص طور پر مکالمہ ادائیگی اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم ایم بیگ بالی ووڈ بالی ووڈ ہدایتکار موت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم ایم بیگ بالی ووڈ بالی ووڈ ہدایتکار موت ایم ایم بیگ
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔