’ایپسٹین نے اپنے گھناؤنے راز مجھے بتائے‘ متاثرہ خاتون کے چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
بدنام زمانہ جنسی سمگلر جیفری ایپسٹین کے مبینہ استحصال کا شکار رہنے والی رینا اوہ نے ایک طویل عرصے بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایپسٹین نے برسوں تک انہیں ذہنی طور پر نقصان پہنچایا اور جوڑ توڑ کے ذریعے اپنے قابو میں رکھا۔
رینا اوہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب وہ 21 سال کی تھیں تو ایپسٹین، جو اس وقت 47 برس کے تھے، انہیں مسلسل تنقید اور توہین کا نشانہ بناتے تھے۔
انہوں نے کہا،
’وہ پہلے میری تعریفیں کرتا تھا، پھر آہستہ آہستہ مجھے کمتر ثابت کرنے لگا۔ میرے جسم پر تنقید کرتا، مجھے بتاتا کہ مجھے اپنے جسم کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ وہ بار بار کہتا تھا کہ میں بہت زیادہ عمر کی ہو چکی ہوں، حالانکہ میں صرف 21 سال کی تھی۔ آپ تصور کریں کہ ایک 21 سالہ لڑکی کو کہا جائے کہ وہ بوڑھی ہو چکی ہے تو اس کی کیا حالت کیا ہوگی۔‘
رینا اوہ کے مطابق وہ بچپن میں بھی جنسی استحصال کا شکار رہ چکی تھیں، جس کی وجہ سے وہ فطری طور پر خاموش مزاج بن گئی تھیں۔
انہوں نے بتایا ’5 یا 6 سال کی عمر میں مجھے ایک بالغ شخص نے نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ استحصال ہے۔ میں پہلے ہی اندر سے ٹوٹی ہوئی تھی، اور جیفری نے یہ بات بھانپ لی تھی۔ اس نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔‘
ان کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ اور استحصال نے ان کی زندگی پر دیرپا اثرات چھوڑے۔
فلوریڈا کا سفر اور ’تاریک راز‘رینا اوہ نے بتایا کہ ایک موقع ایسا آیا جب انہیں اندازہ ہوا کہ معاملہ ان کے خیال سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ فلوریڈا کے ایک سفر کے دوران، جہاں وہ ایپسٹین اور ایک اور لڑکی کے ساتھ گئی تھیں، ایپسٹین نے انہیں کچھ ایسے راز بتائے جو ان کے بقول ’اس کے تاریک ترین رازوں میں سے تھے‘۔
جب انہوں نے یہ بات ایک اور لڑکی کو بتائی تو اس نے جا کر ایپسٹین کو آگاہ کر دیا، جس کے بعد انہیں دھمکی دی گئی۔
’اس کے بعد مجھے لگا کہ چاہوں بھی تو اس سے الگ نہیں ہو سکتی۔‘
رینا اوہ کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کے پاس ان کے بارے میں ایسی معلومات تھیں جنہیں وہ نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتا تھا۔
’اس نے مجھے براہِ راست بلیک میل نہیں کیا، لیکن اس وقت میرے پاس مستقل رہائش (پرمننٹ ریزیڈنسی) نہیں تھی۔ وہ کہتا تھا کہ وہ واشنگٹن میں سب کو جانتا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ صرف ایک فون کال سے میری زندگی مشکل بنا سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین کو ان کے اور ان کے والدین کے گھر کا پتہ معلوم تھا اور انہیں شبہ ہے کہ ان کی نگرانی بھی کرائی جاتی تھی۔
آخری ملاقات اور ہمیشہ کے لیے علیحدگیرینا اوہ کے مطابق آخری بار جب انہوں نے ایپسٹین کو دیکھا تو وہ نہایت پرتشدد رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔
’اس کے بعد میں کبھی واپس نہیں گئی۔ میں نے اس کی فون کالز سننا ہی چھوڑ دیں، لیکن میں نے طویل عرصے تک اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔‘
رینا اوہ نے سابق برطانوی شہزادے پرنس اینڈریو کی ایپسٹین کیس میں گرفتاری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’یہ وقت تھا کہ کچھ ایسا ہوتا۔ چاہے وہ دیگر الزامات کو تسلیم نہ کریں، لیکن انہیں جواب دینا ہوگا کہ سزا یافتہ شخص کے جیل سے نکلنے کے بعد بھی وہ اس کے ساتھ کیوں رہے۔‘
تاہم انہوں نے امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں اس معاملے پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو کو گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔
رینا اوہ نے دیگر متاثرین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ دنیا ان کی پرواہ کرتی ہے۔ انہیں مضبوط رہنا ہوگا۔ حکومت یا محکمہ انصاف سے خوفزدہ نہ ہوں۔ کئی متاثرین اس وقت خوفزدہ ہیں کیونکہ برسوں بعد ان کے نام سامنے آئے ہیں، مگر ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا۔ مکمل شفافیت حاصل کر کے رہیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس منظم مجرمانہ نیٹ ورک میں شامل تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جیفری ایپسٹین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹین انہوں نے تھا کہ کے بعد کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔